اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 5

خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات مطابق خلفاء کا یہ کام رہا ہے اور یہ فرض ہے کہ وہ اس معاملے میں انتظامی فیصلے کریں اگر ایک برقع ایک سوسائٹی میں رائج ہے اور چادر اس کی جگہ لے رہی ہے تو دیکھنا یہ پڑے گا کہ اس سے اسلامی پردہ کو کوئی نقصان پہنچتا ہے یا نہیں ؟ اگر کوئی نقصان نہیں پہنچتا تو اس وقت کا فیصلہ یہی ہوگا کہ کوئی حرج نہیں لیکن اگر واضح طور پر یقینی طور پر قدم ضلالت اور گمراہی کی طرف اُٹھ رہے ہوں اور خطرہ یہ پیدا ہورہا ہو کہ رفتہ رفتہ پردہ اُٹھ جائے گا صرف برقع نہیں اُٹھے گا اس وقت کا خلیفہ اگر قدم نہیں اُٹھاتا تو وہ مجرم ہوگا اور خدا کے سامنے جواب دہ ہو گا اس لئے لازماً میرا فرض ہے کہ ان تمام حالات پر غور کر کے ان کے لئے کوئی انتظامی فیصلہ کروں۔برقع کے حالات بعض سوسائٹیوں میں بہت اہمیت اختیار کر چکے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ برقع سے باہر آنے والا رخ کیا ہے اور برقع کے اندر داخل ہونے والا رخ کیا ہے؟ یہ دو مختلف اور متضاد شکلیں ہیں جو میں آپ کے سامنے کھول کر رکھنا چاہتا ہوں۔جن سوسائٹیوں میں نسلاً بعد نسل برقع رائج رہا ہے۔مثلاً خاندان اقدس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں ہم نے حضرت اماں جان کو دیکھا ، آپ کی اولا د کو دیکھا حضرت مصلح موعود کو اور آپ کی اولا دکو دیکھا، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے خاندان کے افراد جو پارٹیشن سے پہلے تک وہاں پیدا ہوئے اور اس ماحول میں انہوں نے پرورش پائی ان کو دیکھا وہ سارے برقع میں ملبوس ہوتے تھے۔آزادی سے دنیا کی زندگیوں میں اور دلچسپیوں میں حصہ لینے سے ان کو کہیں روکا نہیں گیا۔وہ عورتیں شکار میں بھی جاتی تھیں، کھیل کود میں بھی حصہ لیا کرتی تھیں، سیر و تفریح میں بھی حصہ لیا کرتیں تھیں تعلیم بھی اعلیٰ سے اعلیٰ حاصل کرتی تھیں لیکن برقع پہنتی تھیں۔اس دور میں اگر ان کے بچے اور بچیاں یہ دیکھیں کہ ان کی ماؤں نے چادریں لی ہیں اور چادروں کی شکل یہ بن گئی ہے کہ اپنوں کے سامنے وہ زیادہ شدت کے ساتھ لیٹی جاتی ہے اور غیروں میں نکلتی ہیں تو چادر میں ڈھلک جاتی ہیں اور کندھوں پر جاپڑتی ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ یہ اسلامی پردہ ہے؟ تقویٰ سے کام لینا چاہئے۔اعتراض کی زبانیں بے شک آپ کھولیں مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں لیکن میں اس مقام پر فائز کیا گیا ہوں کہ میں آپ کی نگرانی کروں اس لئے میں آپ پر خود کھول کر یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم فرماتا ہے۔بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ الْقَى مَعَاذِيْرَهُ ) ( القيمة : ۱۶،۱۵) لاکھ تم بہانے تراشو اور لاکھ عذر پیش کرو کہ تم اسلامی پردے میں زیادہ شدت اختیار کر رہے