اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 7

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۸۲ء یہ وہ وجوہات ہیں جس کے پیش نظر میں نے اس دفعہ نظارت اصلاح وارشاد کو بھی اور لجنہ کو بھی یہ ہدایت دی کہ سب سے پہلے سٹیج پر آپ پابندی کریں اور خصوصیت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کی مستورات پر پختی کریں۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خاندان پر جو احکامات عائد ہوتے ہیں خالی طور پر ویسے ہی احکامات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان پر بھی عائد ہوتے ہیں۔اگر ان سے یہ سلوک ہو کہ وہ چاہے پردے کا احترام کریں نہ کریں ان کو سٹیجوں کے ٹکٹ مل رہے ہوں اور لجنہ کی خدمت کرنے والی مستورات ، قربانی کرنے والی مستورات، پردے میں رہ کر اسلام کے لئے اپنا سب کچھ پیش کرنے والی مستورات، ہاتھوں سے زیورا تار دینے والی مستورات، یہ باہر بیٹھی ہوں نیچے اور یہ تصور قائم ہو کہ گویا کہ اعلیٰ اور ماڈرن سوسائٹی کا کام ہے کہ وہ میچ کا ٹکٹ لے لے اور دوسری غریب احمدی عورتوں کا کام ہے کہ وہ سامنے زمین پر بیٹھ جائیں یہ باطل تصور ہے۔ہمیشہ کے لئے اگر کسی کے دماغ میں یہ کیڑا ہے تو نکال دے ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔تقویٰ معیار ہے۔جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے۔إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ (الحجرات :۱۴) خبر دار ہم نے تمہیں شعوب بنایا، قبائل بنایا اور مختلف قسمیں کیں لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک متقی کے سوا کوئی عزت کے لائق نہیں۔پس اگر جماعت تقویٰ کے معیار کی حفاظت نہیں کرے گی تو کسی بھی قدر کی حفاظت نہیں ہو سکے گی۔یہ تو بنیا د ہے، مومن کی بنیاد ہے، یہ تو اسلام کی جڑیں ہیں تقویٰ۔حضرت مسیح موعو علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔عے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے تقویٰ ہی وہ ہے جس کے نتیجہ میں سارے اسلام کا تانا بانا قائم رہتا ہے۔یہ بہار جو اسلام کے چہرے پر آتی ہے تقویٰ کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے یہ تقویٰ کی جڑیں زمین کا رس چوستی ہیں اور پھران کو آسمانی کیفیتوں میں تبدیل کرتی چلی جاتی ہیں اس لئے بہر حال تقویٰ کا کام یہ ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ایسے موقعوں پر کچھ بے احتیاطیاں بھی ہو جاتی ہیں۔مثلاً بعض علاقے ایسے ہیں جن علاقوں میں برقع رائج نہیں بلکہ چادر رائج ہے اور کچھ مستورات ایسی ہیں جو چادر سے برقع کی نسبت زیادہ اپنی حفاظت کرتی ہیں۔جماعت کا کام ہے کہ ان باتوں کی نگرانی کرے اور دیکھے کہ کہاں