اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 73
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۷۳ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء والی ہو۔جو درست کرنے والی ہو جو ٹیڑھے پن اور کجی کو سیدھا کرنے والی ہو۔چنانچہ قوام اصلاح معاشرہ کے لئے ذمہ دار شخص کو کہا جائے گا۔پس قوامون کا حقیقی معنی یہ ہے کہ عورتوں کی اصلاح معاشرہ کی اول ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی ہے۔اگر عورتوں کا معاشرہ بگڑنا شروع ہو جائے اُن میں کج روی پیدا ہو جائے ، اُن میں ایسی آزادیوں کی رو چل پڑے جو اسلام کے عائلی نظام کو تباہ کرنے والی ہو تو عورت پر دوش دینے سے پہلے مرد اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کیونکہ خدا نے اُن کو نگران مقرر فرمایا تھا۔معلوم ہوتا ہے انہوں نے اپنی بعض ذمہ داریاں اس سلسلے میں ادا نہیں کیں۔بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ میں خدا تعالیٰ نے جو بیان فرمایا وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر تخلیق میں کچھ خلقی فضیلتیں ایسی رکھی ہیں جو دوسری تخلیق میں نہیں ہیں اور بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔قوام کے لحاظ سے مرد کی ایک فضیلت کا اس میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ہرگز یہ مراد نہیں کہ ہر پہلو سے مرد کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ یہ نہیں فرمایا کہ اس لئے کہ ہم نے مردوں کو عورت پر فضیلت بخشی بلکہ فرمایا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ایک عمومی اصول جاریہ کی طرف توجہ مبذول فرمائی اور اس مضمون کی آیات قرآن کریم میں بارہا دوسری جگہ پر بھی ملتی ہیں۔چنانچہ فرمایا کہ ہم نے بعض کو بعض پہلو سے دوسروں پر فضیلت بخشی ہے۔اس پہلو سے جب ہم لفظ قوام کو دیکھتے ہیں تو قوام میں ایک معنی طاقتور کے بھی ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ جسے صنف لطیف کہا جاتا ہے اور اہل یورپ بھی اسی طرح اس کو یاد کرتے ہیں اس میں ایک نزاکت پائی جاتی ہے اور مرد کو ایک قومی کی فضیلت مضبوطی کے لحاظ سے عورت پر عطا کی گئی ہے۔اگر یہ نہ ہو تو آج اہل مغرب جو سالانہ کھیلیں منعقد کرتے ہیں بڑی بڑی عالمی اُن میں عورتوں کی کھیلوں کا الگ انتظام کیوں کرتے ہیں۔مردوں کے ساتھ کیوں نہیں دوڑا دیتے۔اُن کی بین الا قوامی کھیلیں ہوتی ہیں اُس میں شاٹ پٹ جو ہے وہ بھی عورتوں کا مردوں کے ساتھ ہونا چاہئے ، ان کی دوڑیں بھی ان کے ساتھ ہونی چاہئیں ، ان کی کشتیاں بھی، ان کی باکسنگ بھی اگر وہ قرآن کو جھٹلا رہے ہیں تو زبان سے نہ جھٹلائیں عمل سے جھٹلا کر دکھا ئیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر Women's Lib کی ساری دنیا کی اجتماعی طاقتیں بھی اکٹھی ہو جائیں تو اسے تبدیل نہیں کر سکتیں اس لئے جو واقعاتی بیان ہے اس پر چیں بجیں ہونے کی ضرورت ہی کوئی نہیں حق نہیں پہنچتا اور تیسری بات یہ بیان فرمائی