اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 74 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 74

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۷۴ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ اَمْوَالِهِمْ - فضیلت جو بعض پر بعض کو دی گئی ہے ایک تو قوام کے لحاظ سے جو واضح ہو گئی ہے۔دوسری اس لئے کہ اسلام کے اقتصادی نظام میں مرد کا فرض ہے کہ وہ گھر کی ضرورتوں کا خیال رکھے اور یہ ظاہر بات ہے کہ جس کے ہاتھ میں روپیہ پیسہ ہوا سے ایک گونہ اس پر فضیلت حاصل ہو جاتی ہے جس کے ہاتھ میں نہ ہو یا جس کی کمائی کی ذمہ داری نہ ہو۔چنانچہ مرد اور عورت کی بحث تو در کنار وہ تو میں بھی جو اپنی اجتماعی قومی دولت کا ایک معمولی حصہ بھی غیر قوموں سے بطور امداد کے لیتی ہیں اُن کے سراُن کے سامنے جھک جاتے ہیں اور امداد دینے والی قوموں کو ایک فضیلت نصیب ہو جاتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یورپ اس پہلو کو اس لئے نہیں سمجھ سکتا یا مغرب اس پہلو کو کہنا چاہئے کیونکہ یورپ میں تو امریکہ نہیں آتا مغرب میں امریکہ بھی اور دیگر ایسے ممالک بھی شامل ہیں جو ترقی یافتہ مغربی ممالک کہلاتے ہیں وہ اس حقیقت کو اس لئے نہیں سمجھ سکتے کہ انہوں نے گھروں کے یہ بوجھ اٹھانے سے عملاً اس طرح انکار کر دیا ہے یعنی تنہا اٹھانے سے کہ ان کے اقتصادی نظام میں ، ان کے معاشی نظام میں عورت پر تقریباً برابر کی ذمہ داریاں آچکی ہیں اور ظلم یہ ہے کہ اس کے باوجود عورت ہونے کی حیثیت سے اُس پر جو گھریلو ذمہ داریاں ہیں وہ بھی اسی پر رہتی ہیں۔اقتصادی لحاظ سے کہتے ہیں میں بھی کماتا ہوں اپنی بیوی کو کہتے ہیں تم بھی کماؤ اور ہم دونوں مل کر گھر چلاتے ہیں کیونکہ اکیلے کی محنت سے کام نہیں چلتا اور دونوں مل کر محنتیں کرتے ہیں اور جب گھر میں کھانے پکانے کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں تم پکاؤ۔جب بچے پیدا کرنے کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں میں مجبور ہوں تم بچے پیدا کرو۔نو مہینے میرے بچے کو پیٹ میں اُٹھائے پھرو۔اپنی زندگی کا ہر جزو اس کو دو اپنا خون دو۔اپنی ہڈیاں دو، اپنا دماغ دو، اپنی رگیں دو، جو کچھ بھی خدا نے تمہیں دیا ہے اس کے ساتھ شیئر کرو اور پھر اُس دور میں بھی تم بھی کماؤ میں بھی کماتا ہوں۔ہم دونوں برابر ہیں یعنی برابری کا عجیب تصور ہے اور پھر اُس کے بعد جب علیحدگی ہوتی ہے تو اگر مرد کے پاس کچھ نہ بھی ہو تب بھی وہ بیوی کے مال میں آدھے کا شریک ہو جاتا ہے۔چنانچہ کچھ عرصہ پہلے سویڈن سے ایک شکایت ملی ایک احمدی عورت کی ایک شکایت تھی۔اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں مگر اُس دوران میں نے جب تحقیق کرائی کہ اس ملک کے قوانین کیا ہیں تو یہ سن کے میں حیران رہ گیا کہ اگر ایک عورت ایک غریب مرد سے شادی کر لے اور ان کی علیحدگی ہو جائے تو قطع نظر اس کے کہ اُس غریب مرد نے کتنا حصہ ڈالا تھا علیحدگی کے وقت ساری جائیداد برابر کی تقسیم ہو جائے گی۔کچھ اسی سے ملتا جلتا کوئی جھگڑا تھا۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور وہ معاملہ حکومت کی عدالتوں میں جانے کی بجائے آپس میں بڑے