اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 72
حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۷۲ خطاب کیکم اگست ۱۹۸۷ء گزشتہ سال بیان ہو گئے تھے۔اب میں بقیہ پہلوؤں کو اس آیت کریمہ کی روشنی میں آپ کے سامنے پیش کروں گا۔پہلا حصہ جس پر اعتراض ہے وہ یہ ہے:۔الرّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ کہ مرد عورتوں پر قوام ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے بعض کو بعض پر بعض پہلوؤں سے فضیلت بخشی ہے اور اس وجہ سے بھی وہ قوام ہیں کہ وہ گھر کو چلانے میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔فَالصَّلِحُتُ قُنِتُت حفظتُ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ پس وہ پاک دامن نیک بیبیاں جو فرمانبردار ہیں اور غیب میں اپنے خاوند کے حقوق کی حفاظت کرنے والی ہیں۔وہ حقوق جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد فرمائے۔لیکن وہ خواتین۔یہ دوسرا حصہ بھی خاص طور پر جواہل یورپ کے نزدیک اعتراض کے لائق ہے۔وَالتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ لیکن وہ عورتیں جن سے تم بغاوت کے آثار پاؤ اور خائف ہو کہ وہ باغیانہ سلوک کریں گی اُن کے ساتھ کیا سلوک کرو۔فرمایا فَعِظُوهُنَّ ، تم اُن کو نصیحت کرو۔وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ اُن کو اپنے بستروں میں الگ چھوڑ دو وَاضْرِبُوهُنَّ اور ان کو ما رو فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو پھر تمہیں اُن پر ہاتھ اُٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرً ا يقينا اللہ تعالیٰ بہت بلندشان والا اور بڑا ہے۔الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ کا ایک معنی یہ لیا جاتا ہے کہ مرد عورتوں کے اوپر حاکم بنائے گئے ہیں اور بِمَا فَضَّلَ اللہ کا ایک معنی یہ لیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو ہر پہلو سے عورت پر فضلیت بخشی ہے۔چنانچہ اہل مغرب یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مرد کو بنایا ہی ہر پہلو سے بہتر ہے اور اس وجہ سے وہ عورت پر حکم چلانے کا حق رکھتا ہے۔حالانکہ دونوں جگہ معنے غلط کئے گئے ہیں۔ب سے پہلے تو لفظ قوام کو دیکھتے ہیں۔قوام کہتے ہیں ایسی ذات کو جو اصلاح احوال کرنے