اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 71
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات اے خطاب یکم اگست ۱۹۸۷ء اسلام میں عورت کا مقام (جلسہ سالانہ مستورات برطانیہ سے خطاب فرمودہ یکم اگست ۱۹۸۷ء) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے سورۃ النساء آیت ۳۵ کی تلاوت کی : الرِّجَالُ قَوْمُوْنَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ اَمْوَالِهِمْ فَالصَّلِحُتُ قُنِتَتُ حفِظتُ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَالَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (النساء: ۳۵) گزشتہ سال میں نے خواتین میں خطاب کے لئے اسلام اور عورت کا مضمون چنا تھا لیکن اس موضوع پر ابھی سیر حاصل گفتگو نہیں ہو سکی تھی کہ وقت ختم ہو گیا اس لئے میں نے گزشتہ سال یہ وعدہ کیا تھا کہ انشاء اللہ جہاں سے مضمون چھوڑا ہے وہیں سے اُٹھا کر اس مضمون کو آئندہ سال مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔آج کے خطاب کے لئے جس آیت کا میں نے انتخاب کیا ہے جسے سر فہرست بنایا گیا ہے۔اس آیت کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ اس آیت کے دو ایسے پہلو ہیں جن پر اہل یورپ کو یا اہل مغرب کو شدت سے اعتراض ہے اور جب بھی عورت کے متعلق اسلام کی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی جاتی ہے تو زیادہ تر اسی آیت میں مضمران دو پہلوؤں کو اچھالا جاتا ہے اور اُن دو پہلوؤں کو سامنے لا کر دنیا کے سامنے یہ تصور پیش کیا جاتا ہے کہ اسلام بہر حال عورت کے قبول کرنے کے لائق چیز نہیں کیونکہ یہ ایک ایسامذہب ہے جس نے عورت پر ظلم کو سراہا، اس کی تائید کی اور خود ظلم کی تعلیم دی۔کچھ پہلو اس سلسلے میں