اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 666
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۶۶ خطاب ۲۶ راگست ۲۰۰۰ء مرد اور عورت کی برابری کی اس سے زیادہ عظیم الشان آیت آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گی۔دنیا کی کسی مذہبی کتاب میں آپ کو نظر نہیں آئے گی اس میں مردوں اور عورتوں کے حقوق کو بالکل برابر کر دیا ہے۔سب کی نیکیوں پر خدا کی یکساں نظر ہے اس لئے یہ خیال کرنا کہ مردوں کو عورتوں پر کوئی فضلیت ہے یا عورتوں کو مردوں پر کوئی فضلیت ہے یہ تصور اسی ایک آیت سے کلیۂ باطل ہو جاتا ہے۔یہ مضمون جو جاری ہے اس مضمون میں حضرت اقدس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ احادیث اور روایات یا تحریریں ہیں مسیح موعود علیہ السلام کی جن سے پتہ چلتا ہے کہ عورتوں کے کیا حقوق ہیں اور مردوں کے کیا حقوق ہیں اور عورت کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کیا رویہ تھا اور عورت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنے آقا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کیا رویہ تھا۔مجھے بتایا گیا ہے کہ جلسہ سالانہ انگلستان کے لئے جو مضمون اخذ کیا گیا تھا اس میں سے بچے ہوئے حصے ہیں۔کچھ میرے نزدیک دہرائے گئے تھے وہ میں نے الگ کر دیئے ہیں گو مختصر تو ہو گیا ہے لیکن پھر بھی بہت مضمون ہے۔اب میں سب سے پہلے احادیث نبوی سے بات شروع کرتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اور یہ حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ دنیا تو عارضی ٹھکانہ ہے دنیا کے عارضی سامانوں میں نیک عورت سے بڑھ کر کوئی سامان افضل نہیں۔“ (سنن ابن ماجہ کتاب النکاح) گو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس سے زیادہ عورت کے متعلق کیا تاریخی کلمات فرما سکتے تھے کہ دنیا کی عارضی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت وہ عورت ہے جو نیک ہو پھر ایک روایت ہے بخاری کتاب الوصایا سے لی گئی ہے۔حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: والا ہے۔66 تم میں ہر ایک نگران ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جانے ( بخاری کتاب الجمعة ) چنانچہ امام بھی نگران ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں پوچھا جانے والا ہے اور خاوند اپنے اہل وعیال پر نگران ہے اور اپنی رعیت کے بارے میں پوچھے جانے والا ہے اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے اور اپنی رعیت کے بارہ میں پوچھی جانے والی ہے اس میں ساری اولا د بھی شامل ہو جاتی ہے ان سب کی اچھی تربیت کرنا بھی عورت کا فرض ہے اور اس بارے میں وہ پوچھی جائے گی