اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 667 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 667

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۶ اگست ۲۰۰۰ء ایک مسند الامام العالم کتاب العلم سے روایت ہے حضرت اُمّم ھائی بیان کرتی ہیں کہ : آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ تمہارا شعار قرآن کریم اور علم ہے۔( بخاری کتاب المناقب) صحیح بخاری سے حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ: ”اے عائشہ اتم مجھے رویا میں دو دفعہ دکھائی گئیں۔ایک دفعہ دیکھا کہ ایک خاص شخص ریشم کے کپڑے کے ٹکڑے کے اندر تمہاری تصویر اٹھائے ہوئے ہے اور کہتا ہے یہ آپ کی بیوی ہے میں نے پردہ اُٹھایا تو نا گہاں تمہیں دیکھا میں نے کہا اگر اللہ کی یہی مرضی ہے تو ضرور وہ اسے پورا کر دے گا۔“ ( بخاری کتاب المناقب) بخاری کتاب المناقب سے ابو سلمی کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: اے عائش! ( آپ پیار سے حضرت عائشہ صدیقہ کو عائش کہہ دیا کرتے تھے ) یہ جبرائیل آیا ہے اور تمہیں سلام کہتا ہے میں نے عرض کیا ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمتیں ہوں۔اے اللہ کے رسول آپ وہ کچھ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھتی۔“ بخاری کتاب النکاح سے ایک روایت ہے یہ بھی حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے فرمایا: مجھے خوب پتہ چل جاتا ہے جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو۔میں نے عرض کیا آپ کو کیسے پتہ چلتا ہے؟ آپ نے فرمایا جب تم مجھ سے راضی ہو تو کہتی ہورب محمد کی قسم اور جب مجھ سے ناراض ہو تو کہتی ہو رب ابراہیم کی قسم۔میں نے عرض کیا کہ ہاں یہ درست ہے۔مگراے اللہ کے رسول! (نہایت رقت بھری آواز میں کہا) میں صرف ظاہراً آپ کا نام چھوڑتی ہوں دل سے تو آپ ہی سے محبت کرتی ہوں۔“ فتح مکہ سے قبل حضرت ام حبیبہ کے باپ ابوسفیان کے متعلق ایک روایت ہے کہ