اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 649 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 649

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۶۴۹ خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء ام سلمہ دونوں بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ فاطمہ کو رخصت کی غرض سے دلہن کی طور پر تیار کرو۔(اب دیکھیں کتنی سادگی سے انہوں نے گھر سجایا ہے ) ہم نے اس کے کمرے کو لیپ پوت کر کے ٹھیک کیا۔تکیہ اور گدے نرم نرم کھجور کے چھلکوں کے تیار کئے پھر ہم نے کھانے کے لئے کھجور اور کشمش اور پینے کے لئے میٹھے پانی کا انتظام کیا اور ہم نے کپڑے اور مشکیزہ لٹکانے کے لئے ایک لکڑی کونے میں گاڑی۔اس طرح حضرت فاطمہ کی رخصتی سے بڑھ کر کوئی خوبصورت رخصتنا نہ ہم نے نہیں دیکھا۔حضرت ابوداؤد سے ایک روایت حضرت ابن عباس کی ہے کہ ایک ہماری لڑکی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بیان کیا کہ اس کے والد نے اس کی شادی کی ہے اور یہ شادی اسے ناپسند ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا کہ وہ چاہے تو اس نکاح کو قائم رکھے اور اگر چاہے تو اسے رد کر دے۔یہ مغرب میں الزام لگایا جاتا ہے کہ مسلمان بچیوں کی زبردستی شادی کی جاتی ہے۔یہ سراسر جھوٹ ہے اب بگڑے ہوئے زمانے کے مسلمان یہ کرتے ہوں تو کرتے ہوں اللہ کے فضل سے احمدیوں میں پوری کوشش کی جاتی ہے کہ کوئی ایسا واقعہ نہ ہو۔ایک مسند امام احمد بن حنبل سے روایت حضرت عبداللہ بن عباس کی ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا۔اس کا اس سے ایک بچہ بھی تھا۔بچے کے چانے عورت کے والد سے اس بیوہ کا رشتہ مانگا یعنی اس کے دیور نے رشتہ مانگا۔عورت نے بھی رضا مندی کا اظہار کیا لیکن لڑکی کے والد نے اس کا رشتہ اس کی رضامندی کے بغیر کسی اور جگہ کر دیا۔اس پر وہ لڑکی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور شکایت کی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والد کو بلا کر دریافت کیا اس کے والد نے کہا کہ اس کے دیور سے بہتر آدمی کے ساتھ میں نے اس کا رشتہ کیا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کے کئے ہوئے رشتے کو تو ڑ کر بچے کے چچا یعنی عورت کے دیور سے اس کا رشتہ کر دیا۔سنن ابی داؤد میں یہ روایت ہے ایک بار ایک صحابی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور بچے کو اس سے لینا چاہا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ میرا پیٹ اس کا ظرف، میری چھاتی اس کا مشکیزہ اور میری گود اس کا گہوارہ تھا اور اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی اور اس کو مجھ سے چھینا چاہتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تم دوسرا نکاح نہ کر لو تم بچے کی