اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 650
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات سب سے زیادہ مستحق ہو۔خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء ایک روایت بخاری کتاب الادب سے لی گئی ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں۔قَالَتْ مَارَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ اَشْبَهَ سَمُتًا وَهَدْيَاو دلا یہ عربی عبارت کا ترجمہ میں پڑھتا ہوں اب حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے فاطمہ سے بڑھ کر رضی اللہ تعالیٰ عنھا، شکل وصورت ، چال ڈھال اور گفتگو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی اور کو نہیں دیکھا۔حضرت فاطمہ جب کبھی حضور سے ملنے آتیں تو حضور ان کے لئے کھڑے ہو جاتے ،ان کے ہاتھ کو پکڑ کر چومتے ، اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے۔اسی طرح جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم ملنے کے لئے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ کھڑی ہو جاتیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو بوسہ دیتیں اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر حضور کو بٹھا تیں۔ایک لمبی روایت ابو داؤد سے لی گئی ہے۔اس میں حضرت ابن عابد بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت علی نے کہا کہ کیا میں تجھے اپنا اور فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ نہ سناؤں۔حضرت فاطمہ تمام رشتہ داروں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ عزیز تھیں۔میں نے کہا کیوں نہیں ضرور سنائیں۔اس پر حضرت علی سنانے لگے کہ چکی چلا چلا کر فاطمہ کے ہاتھ میں گئے اور پانی ڈھوڈھوکر سینے پر مشکیزے کے نشان پڑ گئے تھے اور گھر میں جھاڑو دینے کی وجہ سے کپڑے میلے کچیلے ہو جاتے تھے۔اس عرصے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خادم آئے۔میں نے کہا بہتر ہوگا اگر پ اپنے والد محترم کے پاس جا کر کوئی خادم مانگ لیں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو دیکھا کہ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔وہ اس دن واپس آگئیں۔پھر دوسرے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم خودان کے پاس گئے اور پوچھا کسی چیز کی ضرورت ہے؟ وہ خاموش رہیں۔میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں بتاتا ہوں یہ کس لئے آئی ہیں۔چکی چلا چلا کر ہاتھ میں گئے پڑ گئے ہیں۔مشک اُٹھا اُٹھا کر سینے پر نشان پڑگئے ہیں۔جب آپ کے پاس خادم آئے تو میں نے کہا جا کر اپنے لئے ایک خادم مانگ لو تا کہ وہ اس جانکاہ محنت سے بچ سکے۔حضور علیہ السلام یہ سن کر فرمانے لگے۔فاطمہ اللہ سے ڈرو، اپنے رب کے فرائض ادا کرو، گھر کے کام کاج خود کرو۔جب رات کو سونے لگو تو ۳۳ بارسبحان اللہ ۳۳۰ بار الحمد للہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہو کل سو بار ہوئے۔یہ نوکر چاکر کی تمنا سے زیادہ بہتر ہے۔اس پر حضرت فاطمہ نے عرض کیا میں اللہ اور اس کے رسول کی رضا پر راضی ہوں۔