اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 596
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۹۶ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء نہیں ہوں گے۔اب آخر پر میں ایک چھوٹا سا واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قناعت کا یہ عالم تھا کہ ایک موقع پر اپنے والد کو جو چاہتے تھے کہ دنیا کی ملازمت کریں اور کمائیں اور اچھی طرح زندگی بسر کریں اُن کی خدمت میں ، آپ نے اپنے والد کی خدمت میں عرض کی میں کوئی نوکری نہیں کرنا چاہتا۔دو جوڑے کھدر کے کپڑوں کے بنا دیا کرو اور روٹی جیسی بھی ہو بھیج دیا کرو میرے لئے بہت کافی ہے۔اپنے باپ کی زندگی کی دعائیں کرنے والے کہ اللہ تعالیٰ انہیں لمبی زندگی عطا فرمائے ، ساری عمر کے لئے اپنے لئے اس بات پر راضی ہو گئے کہ میں دین کے کام کروں اور دنیا کمانے سے مستغنی ہو جاؤں اور تمام عمر کے لئے اس پر راضی ہو گئے کہ دور وٹیاں مل جائیں یا ایک روٹی مل جائے اور کھدر کے ۲ جوڑے میرے لئے بہت کافی ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ آپ اپنی زندگیوں میں اس قناعت کو اختیار کریں گی جس کو قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے اور جس کے پاک نمو نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھائے اور جن کا یہ نمونہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی دکھایا کہ والد کی زندگی کی اتنی تمنا تھی کہ جس دن الہام ہوا کہ رات کو کچھ ہونے والا ہے آپ کو شدید غم لگ گیا اور چاہتے تھے کہ گویا وہ کبھی بھی نہ فوت ہوں میری زندگی میں۔ساری زندگی کے لئے یہ قناعت کا نمونہ ہے۔اس بات پر راضی تھے کہ کھدر کے ۲ جوڑوں میں گزارہ کریں اور جو کچھل جائے گھر سے آجائے وہی کافی ہو۔میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہماری خواتین، احمدی خواتین آج کی دنیا میں اس مضمون کو زندہ کریں گی۔اپنے اعمال سے اور اپنے بچوں کی تربیت کے ذریعے اگر آپ ایسا کر سکیں تو آئندہ صدیوں کی تربیت کا سہرا آپ کے سر رہے گا اور وہ جو بھی نیکیاں اس وجہ سے اختیار کریں گے کہ آپ نے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی تھی اور انہوں نے یہ پیغام آگے پہنچایا تھا۔اس کا ثواب آپ کو ہمیشہ ملتار ہے گا اور یہ قناعت کی آخری بات ہے جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔قناعت کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کا انعام آپ کے مرنے کے بعد بھی آئندہ نسلوں تک آپ کو پہنچتا رہے گا اور یہ بھی ان معنوں میں قناعت کا لفظ ہے کہ قناعت ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ ہماری احمدی خواتین کو یہ توفیق عطا فرمائے اور احمدی بچیوں کو بھی یہ مضمون براہ راست سن کر اچھی طرح سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔