اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 595
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۹۵ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء دیکھ رہے تھے کہ ابھی تو مجھے روکا تھا کہ صرف سامنے سے کھانا ہے ادھر ادھر ہاتھ نہ مارواب ہر طرف ہاتھ مار رہے ہیں اور کھجور میں چھن رہے ہیں رسول اللہ اس بات کو پہچان گئے آپ نے فرمایا یہ کھجور مختلف قسموں کی ہیں اور جو کھانا میں نے کہا تھا ثرید وہ ایک ہی قسم کا تھا۔اس میں ادب کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے سامنے سے کھاؤ خواہ مخواہ دوسری جگہ ہاتھ نہ مارو اور جو دوسرا کھانے والا ہے اسے بھی چین سے کھانے دو لیکن کھجوروں میں کیونکہ تقسیم ہے فرق ہے اس لئے اس فرق کے مطابق اور اپنے مزاج کے مطابق چنی چاہئیں یہ بدتمیزی نہیں ہے بلکہ یہ بے تکلفی کا ایک صحیح انداز ہے یعنی رسول اللہ کی طبیعت میں ادنیٰ سا بھی تکلف نہیں تھا۔پھر آپ نے پانی منگوایا اس سے اپنا ہاتھ دھو یا گیلا ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرا اور اس طرح آنحضور نے فرمایا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز جو ہو اس کے ساتھ ہاتھ دھونا اور منہ کو صاف کرنا ضروری ہوا کرتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عام پھل یا کھجور میں وغیرہ اگر ہاتھ گندے نہ ہوں یعنی اس سے چیچے نہ ہوں اُس کھانے سے دھونے کی ضرورت نہیں ہے بعض لوگ چمچے سے کھانا اٹھا لیتے ہیں۔لیکن آگ پر پکا ہوا کھانا جو ہے اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا اس سے منہ کو صاف کرنا چاہئے اور ہاتھ بھی دھونے چاہئیں۔بعض دفعہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قناعت کا ایک اور مضمون بھی لوگوں کو سمجھایا کرتے تھے۔جس کا مطلب یہ تھا کہ جن لوگوں کو نہیں دیتے تھے وہ قناعت کریں اور آپ گا نہ دینا محبت کے نتیجے میں ہوا کرتا تھا اس لئے اپنے بچوں کو یہ مضمون بھی ضرور سکھائیں۔بعض دفعہ آپ ان کو نہیں دیتیں کہ ان کی محبت کی وجہ سے نہیں دیتیں۔امر بن تغلب کے متعلق روایت ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ آنحضور نے ایک موقع پر مال غنیمت تقسیم کئے اور بکثرت لوگوں کو دیئے اور مجھے کچھ نہیں دیا۔تو میرے دل میں یہ گمان گز را که رسول اکرم کو شاید مجھ سے پیار نہیں ہے، باقیوں سے پیار ہے ان کو دے دیا مجھے نہیں دیا تو آنحضور نے فرمایا سنو میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا کہ مجھے تم سے پیار ہے اور میں جانتا ہوں کہ تمہیں بھی مجھ سے پیار ہے۔تم میرے نہ دینے پر بھی راضی رہو گے اور اس کے نتیجے میں مجھے جو تجھ سے محبت ہوتی ہے وہ تمہارے لئے بہت کافی ہوگی۔راوی بیان کرتے ہیں کہ ساری زندگی مجھے کبھی کسی بات سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی آنحضور کے اس موقع پر نہ دینے کے نتیجے میں ہوئی کیونکہ یہ نہ دینا محبت کے نتیجے میں تھا۔پس اپنے بچوں کی تربیت میں اس بات کو بھی داخل کریں کہ آپ کا ان کو کچھ نہ دینا اگر ان کی محبت کی وجہ سے ہے اور ان کو یہ احساس ہو تو پھر وہ ہمیشہ خوش رہیں گے بھی بھی آپ سے ناراض