اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 597
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۹۷ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء اس کے بعد چونکہ مجھے دوسرے بھی خطابات کرنے ہیں اور مردوں میں بھی اب جانا ہے وہاں نما ز اور پھر نماز کے بعد ایک نکاح بھی ہوگا اور نماز سے پہلے بچوں کی وہ ایک مارچ پاسٹ بھی رکھی ہوئی ہے۔وہ مجھے تو اس قسم کی مارچ پاسٹ پسند نہیں کہ بچے با قاعدہ سلیوٹ کرتے ہوئے گزررہے ہوں وقف نو کے بچے لیکن امیر صاحب کا دل چاہ رہا تھا کہ یہ ہوتو میں نے کہا کہ امیر صاحب کی خواہش ہے تو ضرور ہوگی کیونکہ اس دفعہ انہوں نے یہی خواہش کا اظہار کیا۔اگر اسی خواہش کو رد کر دوں تو اچھی بات نہیں ہے تو اس لئے میں نے یہ بات منظور کر لی ہے کہ ابھی جاؤں گا کچھ دیر تک اور ایک بجے میرا پہنچنا وہاں بیان کیا گیا ہے کہ ضروری ہوگا یا کافی ہو جائے گا۔نماز سے پہلے مارچ پاسٹ ہو جائے گی اور نماز کے بعد ایک نکاح کا اعلان ہوگا۔وہ نکاح افسر صاحب جلسہ کی بچی کا ہے۔میں نے منع کیا ہوا تھا کہ جلسوں پر اب نکاح نہ کیا جایا کریں یہ ایک قسم کا دکھاوے کا ذریعہ بن گیا ہے اور آئندہ سے جلسوں پر نکاحوں کو روک دیا گیا ہے مگر چونکہ افسر صاحب جلسہ کا ایک خاص حق ہے کہ جلسے کا سارا انتظام کرتے ہیں اس لئے انہوں نے خواہش کی تھی کہ اس دفعہ میری بچی کے نکاح میں آپ شامل ہو جا ئیں اور سارے اہل جلسہ بھی اس میں شامل ہو جائیں تو میں نے اس دفعہ ان کی یہ درخواست منظور کر لی ہے۔آئندہ کے لئے نہیں۔ایک دفعہ اور صرف افسر جلسہ کی ہوگی۔باقی آئندہ کسی کو افسر جلسہ بنے کی توفیق ملی تو دیکھی جائے گی اس وقت آج یہ نکاح ان کی بچی کا پڑھا جائے گا اور میں بھی اس میں شامل ہوں گا۔اس کے ساتھ اب میں خاموش دعا کرواتا ہوں۔میرے ساتھ شامل ہو جائیں۔حضور نے دعا کروائی اور السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہہ کر رخصت ہوئے۔