اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 594 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 594

حضرت خلیفہ اسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۹۴ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء دنیا کی زندگی اس کی لذت ہے سب کچھ یہی ہے جتنا کھا پی سکے وہ کھا پی لیتا ہے۔اس کے ساتھ جو آنحضور نے جو حسن سلوک فرمایا اور جو باتیں فرمائیں اس کے نتیجہ میں دوسرے ہی دن وہ مسلمان ہو گیا۔حضور نے اس کے واسطے پھر ایک بکری کا دودھ نکلوایا وہ اس نے پی لیا پھر دوسری بکری کا دودھ نکلوایا وہ سارا نہ پی سکا۔آپ نے فرمایا یعنی اس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی آپ نے مومنوں کو دکھانے کے لئے یہ کیا کہ جب تک یہ کافر تھا یہ سات انتڑیوں میں پیتا تھا یعنی سات گنا غذا تھی اُس کی اور مومن ہوا تو ایک ہی رات میں اس کو خدا تعالیٰ نے قناعت کے گڑ سکھا دیئے اور اب دو بکریاں کا پورا دودھ بھی ختم نہیں کر سکا۔حضرت اثر اُس کی ایک روایت میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس میں کئی باتیں سمجھنے والی ہیں حضرت اقر اس بیان کرتے ہیں کہ بنومرہ نے اپنے اموال صدقہ دے کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔جب میں مدینہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت حضور مہاجرین اور انصار کے درمیان رونق افروز تھے حضور نے میرا ہاتھ پکڑا اور ام سلمہ کے گھر لے گئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا کوئی کھانے کی چیز ہے انھوں نے آنحضور کے لئے شرید کا پیالہ بنایا ہوا تھا ایک ایسی غذا ہے جسے اس زمانے میں جس کو نرم آٹا نصیب نہ ہو وہ بھی شوق سے کھا سکتے ہیں بے دانت کا آدمی بھی کھا سکتا ہے کیونکہ گندم کے دانے جو ( بچ جاتے) تو موٹی چکی میں پیسے جائیں ان کو جب شور بے میں دیر تک بھگو کے رکھا جائے تو بالکل نرم ہو جاتے ہیں پس آنحضور نثرید بہت پسند فرماتے تھے خصوصاً جب جنگ اُحد میں دانت شہید ہو گئے اُس کے بعد آپ کا موٹی کھر دری روٹی کھانا مشکل تھا اس لئے شرید پسند فرماتے تھے ام سلمہ نے اس میں بوٹیاں بھی بہت ڈالی ہوئی تھیں وہ شرید رسول اللہ کے سامنے پیش کیا گیا حضور نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑا جب ہم اس میں سے کھانے لگے تو میں کبھی ادھر ہاتھ مارتا تھا کبھی اُدھر ہاتھ مارتا تھا اسی پیالے میں رسول اللہ نے اقر اس کے ساتھ کھانا کھایا وہ کہتے ہیں میں ادھر ادھر ہاتھ مار رہا تھا آپ نے فرمایا یہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے حرص نہ کرو جو سامنے سے ہے اسی سے کھاؤ۔پھر کہتے ہیں ہمارے سامنے ایک طشت لایا گیا جس میں مختلف قسم کی کھجور اور ڈو کے وغیرہ تھے میں سامنے سے کھانے لگا۔اب یہ دیکھیں کہ کیسا لطیف مضمون ہے یہ رسول اللہ کی حکمت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ رسول اللہ نے اس وقت کیا کیا آنحضرت کبھی ادھر سے چنتے تھے کبھی ادھر سے چنتے تھے اور اپنی مرضی کی نرم کھجور میں اور پسندیدہ کھجوریں چن چن کے کھانے لگے۔اقر اس اب حیرت سے