اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 593
۵۹۳ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات میرے خدا کا مجھ سے کیا سلوک ہے۔قناعت کا خزانہ ختم نہیں ہوتا یہ اُس حدیث کی تشریح میں کر رہا ہوں۔ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ دائیں طرف جو بیٹھا تھا اس نے دودھ کے پیالے کومنہ سے لگایا اور پینا شروع کیا۔مجھے خیال آیا کہ بڑا پیالہ ہے شاید کچھ بچے بھی جائے۔رسول اکرم نے فرمایا اس کو کہ اور پیو جو پی رہا تھا فرمایا اور بھی پیو۔وہ کہتے ہیں ابو ہریرہ کہ میری تو جان نکل گئی تھی اندر سے اب تو میرے لئے سوال ہی نہ رہا کہ میرے پاس پہنچتا لیکن اس نے پورا پیا اور کہا یا رسول اللہ ! میں منہ تک بھر گیا ہوں۔پھر آپ نے وہی پیالہ دوسرے کو دیا پھر تیسرے کو دیا پھر چوتھے کو دیا۔دودھ ختم نہیں ہو رہا تھا۔آخر پر ابوھریرہ کی باری آئی۔رسول اللہ ! نے پیار سے مسکراتے ہوئے دیکھا ابو ہریرہ ہ اب تم پیو۔وہ کہتے ہیں میں نے پیا اور پھر پیا اور پھر پیا، میری بھوک کلیپ ختم ہوگئی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصرار فرمارہے تھے کہ اور بھی پیو اور بھی پیو۔کہتے ہیں میں نے آخر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب تو دودھ میرے ناخنوں سے پھوٹ پڑے گا میں نے اور بھی پیا تو اتنا بھر چکا ہوں دودھ سے۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے کو اپنے منہ سے لگایا۔سب سے بڑا قانع محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ان سے بڑھ کر دنیا میں کبھی کوئی قانع پیدا نہیں ہوا اور یہ حدیث اس بات کو کھول کر بیان کر رہی ہے اور یہ بھی بتارہی ہے کہ جیسا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قناعت ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔یہ حقیقت ہے قناعت کے نتیجے میں اگر سچی قناعت ہو تو اللہ تعالیٰ رزق میں اتنی برکت ڈال دیتا ہے کہ تھوڑا بھی ختم ہونے میں نہیں آتا۔یہی واقعات حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہم نے دیکھے۔یعنی اُن صحابہ نے دیکھے جنہوں نے قناعت کی اور بعد یہ اسی قسم کی باتیں بار ہا پیش ہوئیں۔یا بارہا ظاہر ہوئیں تو یہ کوئی پرانی تاریخ کے قصے نہیں ہیں۔اس دور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعے یہ تاریخ دوہرائی جاچکی ہے۔پس آپ بھی اسی تاریخ کو دوہرائیں یہ تاریخ دہرائیں گی تو آپ کو نہ ختم ہونے والا رزق عطا کیا جائے گا اور اپنے بچوں اور اپنی بچیوں کو ان معنوں میں قناعت کے مضمون سکھا ئیں۔آنحضرت کے حوالہ سے سکھائیں۔اب ایک اور مضمون اسی سے تعلق رکھتا ہے حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ ایک کافر آنحضرت کا مہمان ہوا حضور نے اس کے لئے بکریوں کا دودھ نکلوایا وہ یکے بعد دیگرے سات بکریوں کا دودھ پی گیا اندازہ کریں کہ کیسا بھوکا تھا اس کو قناعت کا پتہ نہیں تھا کیونکہ کا فر وقناعت کا پتہ نہیں ہوتا۔یہ