اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 586
۵۸۶ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات اب قناعت کیوں نہیں کرتیں بچیاں ؟ اس لئے کہ گھر میں اپنے عزیز اور محرم ان کو دیکھتے ہیں تو ان کو کافی نہیں سمجھتیں اور یہاں بھی قناعت کا مضمون یہ ہے جو اطلاق پاتا ہے۔ان کو غیر آنکھیں چاہئیں جو ان کو دیکھیں اور ان کی تعریف کریں اور ان کے لئے اپنے دل میں ایک حرکت محسوس کریں۔پس یہ قناعت کے خلاف ہے۔قناعت میں جو پردہ کا مضمون ہے اس کا اس سے گہرا تعلق ہے۔پس اپنی بچیوں کو سکھائیں کہ وہ اگر سر ڈھانپ لیتی ہیں اور پیچھے سے کھلے بال چھوڑ دیتی ہیں تا کہ وہ پیچھے لہراتے رہیں اور دیکھنے والے بڑے پیار سے ان کو دیکھیں تو یہ قناعت کے خلاف ہے۔قناعت اسی میں ہے کہ اپنی زینت کو بھی چھپا کر رکھیں اور صرف ان پر اپنی زینت ظاہر کریں جن کو خدا اجازت دیتا ہے۔جب ان پر آپ زنیت ظاہر کریں گی یا ان پر کریں گی جن کی نگاہوں میں اللہ تعالیٰ نے تعفف ڈالا ہے اور حیا رکھی ہے وہ بد نیتی سے نہیں دیکھتے اس صورت میں قناعت کا مضمون پوری طرح صادق آئے گا۔آپ کے معاشرے میں بچیوں کو یہ سکھانا بہت ضروری ہے اور سمجھانا ضروری ہے کیونکہ ایسا سمجھانا جو حض لفظی ہو وہ کام نہیں دے گا۔قناعت کا سارا مضمون سمجھانا پڑے گا، بچپن سے ہی ان کی تربیت کرنی ہوگی تاکہ جب وہ باہر جائیں تو اس بات پر قانع ہوں کہ اللہ نے جن کے لئے اجازت دی ہے کہ ان کے سامنے وہ بے شک بال پھیلا دیں اور وہ بد نظر سے ان کو دیکھ ہی نہیں سکتے۔محرم لوگ ہیں اس پر قانع ہو جائیں اور غیر لوگوں کی گندی آنکھوں سے لذت محسوس نہ کریں۔اب یہ بات بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ غیر جب دیکھے گا گندی نظر سے دیکھے گا تو کیوں پسند کرتے ہو اپنے لئے کہ تمہارے لئے غیروں کی نا پاک نظریں اُٹھ رہی ہوں اور تم پر حرص کر رہی ہوں۔یہ چیز رفتہ رفتہ تمہیں کھینچ کر غیر معاشرے کی طرف لے جائے گی۔یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہم تو معمولی سا ایک دکھاوا کر رہی ہیں۔یہ معمولی دکھاوا نہیں ٹھہرا کرتا بلکہ قناعت کے نتیجہ میں ہی انسان صبر اختیار کرتا ہے اور قناعت کا فقدان ہو تو انسان ایک جگہ ٹھہرا ہی نہیں کرتا۔لفظ قناعت میں دیکھو کتنے کتنے معنی پوشیدہ ہیں۔اگر ان سب پر آپ نظر رکھیں تو آپ کو خدا تعالیٰ کے فضل سے تربیت کے گہرے حکمت کے راز معلوم ہوں گے۔جیسے میں نے بیان کیا کہ مرد کا حجاب اس کی ڈھال ہے اس کے پیچھے چلتا ہے تو اس لئے اس کو ڈھال کہتے ہیں کہ وہ ایک قسم کا حجاب ہے۔اسی لئے فرق فخر کے لئے جو پردہ کرتا ہے تو وہ بھی حجاب کہلاتا ہے۔اب جہاں تک اللہ کے حضور معنی کا تعلق ہے تو اس میں تذلل اختیار کرنا ضروری ہے اور پیچھے پڑ کر مانگنا چاہئے۔یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ قناعت کر لو اور جو اللہ نے دے دیا بس کافی ہے۔یہ فیصلہ