اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 585
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۸۵ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء پس دوسرا امر جو اس ضمن میں آپکو پیش نظر رکھنا چاہئے۔اس سائل کو قانع کہتے ہیں کچھ اسے دیا جائے وہ اس پر راضی ہو جائے۔پس اس سلسلے میں آپ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ ان کو جو کچھ آپ دیں اس پر وہ راضی ہو جایا کریں اور پیچھے پڑ کر مانگنے کی عادت نہ ہو کیونکہ بچوں کوعلم ہونا چاہئے کہ مائیں ان کو جو کچھ دیتی ہیں وہ اپنی طاقت کے مطابق دیتی ہیں۔استطاعت کے مطابق دیتی ہیں ، پس اس سے بڑھ کر ان سے مطالبہ کرنا ویسے بھی حماقت ہے اور خواہ مخواہ تکلیف میں ڈالنے والی بات ہے کیونکہ بچے جب اس سے بڑھ کر مطالبہ کرتے ہیں جو ماؤں کے پاس ہے تو اس کا لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ مائیں جائز نا جائزہ کا فرق بھول جاتی ہیں اور اپنے بچوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ناجائز طریق پر بھی کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔بعض ماؤں کے متعلق میرے علم میں آتا رہتا ہے کہ وہ اپنے خاوند کی چوری جائز سمجھتی ہیں اس لئے کہ اس کی جیب سے کچھ نکالا اور بچوں پر خرچ کر دیا یہ بھی قناعت کے خلاف ہے۔اگر قناعت ہوتی تو ہرگز ایسا کام نہ کرتی اور بچوں کو بھی سکھانے کی ضرورت ہے کہ ہم جو قناعت کرتی ہیں۔بعض دفعہ یہ نہیں کہ غربت کی وجہ سے کر رہی ہیں کیونکہ قناعت کا ایک معنی یہ ہے کہ توفیق ہو اور پھر بھی کسی اعلیٰ غرض کی خاطر بچایا جائے اس معنی کے اعتبار سے آپ کی جماعت کو قناعت کی بے انتہا ضرورت ہے اور بچوں کو اگر آپ شروع سے سمجھا دیں کہ ہم جو قناعت کر رہی ہیں اس غرض سے کر رہی ہیں کہ تبلیغی ضروریات پوری ہوں۔ہمیں مہمان نوازی کرنی ہے، بہت لوگوں کے حق ادا کرنے ہیں، غیر قو میں آرہی ہیں ان کی دیکھ بھال ان کی تواضع کرنی ہے تو اگر ہم بچائیں گی نہیں تو کیسے خرچ کریں گی۔پس قانع ہو جانا مال کے ہوتے ہوئے یہ اعلیٰ درجہ کی خوبی ہے اور اگر آپ بچوں کو شروع سے ہی سمجھا دیں تو بچے بھی اس ثواب میں شریک ہو جائیں گے۔بچپن سے ہی ان کی نہایت اعلیٰ درجہ کی تربیت ہوگی۔وہ دل میں یقین کر لیں گے کہ ہم بھی اس سارے نظام کا حصہ بن چکے ہیں اور ہمیں جو غربت کی وجہ سے تکلیف پہنچ رہی ہے یہ اللہ کی خاطر ہے۔ہماری مائیں محبت کی کمی کی وجہ سے ہمارے او پر ہاتھ نہیں روکتیں بلکہ محبت میں زیادتی کی وجہ سے روک رہی ہیں کیونکہ محبت کے اعلیٰ تقاضے یہ ہیں کہ بچوں کی ایسی عمدہ تربیت کی جائے کہ وہ خدا کے قریب تر ہوں نا کہ اس سے دور ہٹ رہے ہوں۔تو بچپن ہی میں لفظ قناعت نے آپ کو پردہ سکھا دیا، ان بچیوں کو پردہ سکھا دیا جو بجھتی ہیں کہ کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کیونکہ قرآن کریم نے جہاں جہاں بھی لفظ قانع کا استعمال کیا ہے جن آیات میں یہ معنی بیان فرمائے ہیں وہاں پر دہ کا مضمون داخل ہے۔