اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 572
۵۷۲ حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب یکم را گست ۱۹۹۸ء کتابیں اردو میں ہیں اور میں جو علمی تقاریر کرتا ہوں وہ بھی اکثر اردو میں ہوتی ہیں اور اچھی بھلی اُردو جاننے والے بھی جب تک درسی اردو نہ جانتے ہوں وہ ان کو نہیں سمجھ سکتے۔اپنے بچوں کا جب میں نے امتحان لیا، یہ سامنے میری نواسی ندا بیٹھی ہے، میں نے کہا کل کی تقریر تمہیں سمجھ آگئی تھی۔میں نے بہت آہستہ آہستہ سمجھا سمجھا کر کی تھی۔تو ندا نے کہا! کچھ کچھ۔میں نے کہا اردو تو ٹھیک بول لیتی ہو کچھ کچھ کیوں؟ اس نے کہا جو ایسی زبان ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ اور ان کی وضاحت ہے، وضاحت کے باوجود ہم بچوں کے لئے سمجھنا مشکل ہے، جن کی پرورش انگلستان میں ہوئی ہے اس کا کوئی انتظام ہونا چاہئے۔چنانچہ میں نے ان کے والد کو یہی بتایا کہ آپ ویڈیوز کے آغاز سے اور با قاعدہ سکھانا شروع کر دیں اور پھر اس کام کو آگے بڑھائیں۔بعض دفعہ دوسری قوموں کے لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ ان کی زبان کی بجائے ہم ناواجب طور پر اردو کی ترویج کر رہے ہیں گویا کہ اردو دان ممالک کی خدمت کر رہے ہیں بالکل غلط ہے اس کا سچائی سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ہر زبان کو اپنے اپنے ملک میں جاننا اور اس میں مہارت حاصل کرنا وہاں کے ہر احمدی کا فرض ہے۔چنانچہ جرمنی میں جو پاکستانی بہتے ہیں تو ان کو بھی میں یہی کہتا ہوں کہ تمہارے لئے لازم ہے کہ اگر بوڑھے بھی ہو چکے ہو تو پھر لازم ہے کہ دین کی خاطر اور ان قوموں کے دل جیتنے کی خاطر ان کی زبانیں سیکھنے کی کوشش کرو تو کوئی بھی تعصب اس تحریک کے پیچھے کام نہیں کرتا۔ہر ملک کی زبان میں وہاں کے جلسوں میں خطابات کی میں تعلیم دیتا ہوں اور سختی سے اس کی نگرانی کرتا ہوں۔بعض دفعہ احمدی لجنات جن میں پاکستان لجنات کی تعداد زیادہ ہے اس بات کو نظر انداز کرتی ہیں اور جب مجھے علم ہوتا ہے تو میں سختی سے ان سے جواب طلبی کرتا ہوں۔آپ نے جب ایک بات سنی ہے تو آپ کا فرض ہے اس پر عمل کریں اور اس کے نتیجہ میں خدا کے فضل سے نئے آنے والے احمدیوں کی تربیت میں بہت فائدہ پہنچے گا اور دراصل یہی وہ موضوع ہے جس کی طرف میں لوٹ کر آپ کو سمجھا رہا ہوں۔اگر آپ زبانیں سیکھیں گی ہلکی زبا نہیں سکھیں گی، آپس میں اپنی زبان میں گٹ مٹ بند کریں گی اور مجالس میں مجالس کا حق ادا کریں گی تو لازم ہے کہ نئی آنے والی خواتین سمجھیں گی کہ یہ ہم میں سے ہیں اور ہم ان میں سے ہیں اور اپنی تربیت کے لئے وہ اپنے آپ کو از خود پیش کریں گی۔