اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 573 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 573

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۷۳ خطاب یکم را گست ۱۹۹۸ء دوسرے جب یہ سارے اردو سیکھیں گے تو اس کے نتیجہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کو براہ راست سمجھنے کی توفیق ملے گی اس پہلو سے اردو کو ایک عالمی حیثیت بھی حاصل ہے۔پس ویڈیوز کی تقسیم کا کام اپنی جگہ پر ہے اور آڈیوز کا کام بھی اپنی جگہ پر ہے بس پوری طرح بات سمجھانے کے لئے ان دو باتوں کا جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے ، ان دو باتوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔لجنہ اماءاللہ جرمنی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے تبلیغی نشستیں الگ لگانی شروع کی ہوئی ہے جن میں خواتین کو دعوت دی جاتی ہے۔خواتین کرسیوں پر بیٹھ کر ان کے جواب دیتی ہیں۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ تسلی بخش جواب دیتی ہوں گی کیونکہ اس کا رواج اب زور پکڑ رہا ہے اور اگر وہ تسلی بخش جواب نہ دیں تو لوگ سارے بھاگ جائیں۔لیکن ان کو میری ہدایت ہے کہ جہاں بھی آپ یہ ایسی مجالس لگائیں اگر کسی سوال کا تسلی بخش جواب نہ دے سکیں تو آڈیو ویڈیوڈ یپارٹمنٹ سے رابطہ کریں ان سوالات پر خود میری تشریحات ریکارڈ موجود ہیں۔آڈیوز کی شکل میں بھی اور ویڈیوز کی شکل میں بھی۔اس کے لئے کسی بڑی محنت کی ضرورت نہیں۔آپ ایسی مجالس لگائیں اور جہاں سوال اُٹھیں ان سے وعدہ کر لیں کہ آپ اُن کے تسلی بخش جواب ان کو بعد میں بھیج دیں گی۔ایک اور بہت اہم کام جماعت جرمنی کی لجنات یہ کر رہی ہیں کہ مختلف ممالک اور قوموں سے آنے والی خواتین کی تربیت کا کام شروع کر چکی ہیں اور انہیں آگے تبلیغ سکھا رہے ہیں ان میں سے معلمات تیار کر رہی ہیں۔چنانچہ جن فعال جرمن جماعتوں کی رپورٹیں آئی ہیں ان کے مطابق جرمن، بوسنین ، البانین، رومانین اور افغانین نواحمدی خواتین میں معلمات تیار کرنے کا کام بھی لجنہ اماءاللہ جر منی کر رہی ہیں۔بہت سی احمدی جماعتیں بھی ہیں جہاں یہ خبر نہیں پہنچی ہوگی اس لئے وہ یہ خیال نہ کریں کہ لجنہ اماءاللہ نے مبالغہ سے کام لیا ہوا ہے۔بعض جگہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی کوشش سے یہ کام نہیں ہوا مگر مقامی لجنات نے یہ کام کیا ہے اس لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کا سہرا مرکزی لجنہ اماء اللہ کے سر پر ہی باندھا جائے۔سہرے تو عام طور پر دولہوں کے سر پر باندھے جاتے ہیں، یوں کہنا چاہئے کہ اس کا جھومر مرکزی لجنہ اماءاللہ کے سر پر ہی لٹکایا جائے۔بہت سی خواتین ایسی ہیں جو مختلف لجنات سے تعلق رکھتی ہیں اور اپنے اپنے دائرے میں از خود یہ کام کر رہی ہیں اس لئے اس رپورٹ میں ادنی بھی مبالغہ نہیں۔