اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 506
خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے مستورات سے خطابات گردہ ہی خراب ہو جائے ایک عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔خدا کے فضلوں کا سایہ اتنا وسیع ہے اور اس کثرت سے ہیں کہ اگر ایک فضل وہ اپنا واپس لے تو اس وقت جو باشعور انسان ہے وہ پہلے سے بڑھ کر خدا کی طرف متوجہ ہوگا اور وہ یہ غور کرے گا کہ او ہو میرا تو سب کچھ خدا ہی کی طرف سے تھا۔میں نے ناشکری کی حالت میں زندگی بسر کر دی۔حالانکہ میرا حق تھا کہ شعور کی حالت میں اپنے محسن کے ہاتھ کو پہچانوں۔پس محسن کا تعارف اس کے حسن کی طرف لے کے جاتا ہے اور حسن کا تعارف محسن کی طرف لے کے جاتا ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود اس مضمون کو مختلف شعروں میں ڈھالتے ہیں۔فرماتے ہیں: چشم مست سے ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خم دار کا ( در شین صفحه : ۱۰) کہ میں تو جب بھی حسن دیکھتا ہوں۔میرا دل تیری طرف چلا جاتا ہے۔وہ آنکھ جو حسین ہے بعض نظریں اس آنکھ پر جا کر ٹھہر جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔کہ میں تو جب حسین آنکھ کو دیکھتا ہوں تو اس حسین آنکھ بنانے والے کی طرف میرا ذہن جاتا ہے۔اور محض آنکھ پر نظر نہیں ٹھہرتی۔جب ایک خوبصورت بالوں کے گچھے کو دیکھتا ہوں۔جو کسی کے حسن میں ایک نیا رنگ بھر رہا ہے۔تو وہ گچھا مجھے خدا کی طرف اشارہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔پس حسن محسن کی طرف لے جاتا ہے اور احسان اُس کے حسن کی طرف لے کے جاتا ہے۔یہ تعلق ہے جس کو قائم کئے بغیر آپ کو اللہ تعالیٰ سے سچی محبت ممکن نہیں ، ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ یہ مضمون بہت وسیع ہے اور سمجھانے میں مجھے دقت پیش آئی تھی کیونکہ میں جانتا ہوں یہاں ہر علم کی خواتین ہیں، ہر مزاج کی خواتین ہیں۔باریک اور لطیف باتیں سمجھنا سب کے لئے ممکن نہیں ہے۔اس لئے میں نے حتی المقدور کوشش کی ہے۔کہ اس بنیادی کچھی کو سلجھا دوں کہ اللہ سے اگر محبت کرنی ہے تو اس پر غور ضروری ہے۔اور اللہ پر غور اپنے نفس کے حوالے سے شروع ہوگا۔اپنے وجود پر غور کی عادت ڈالیں۔اپنے دن رات کے آرام پر غور کریں، جو آپ میوزک میں لطف اٹھا رہی ہیں کبھی آپ کو خیال نہیں آیا کہ اللہ اگر آپ کو بہرہ کر دے تو یہ سب آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔میوزک کی زیر و بم میں جو لذت پیدا کی ہے وہ بھی اللہ نے پیدا کی ہے۔اگر وہ لذت کا احساس آپ کو خدا نہ بخشتا تو آپ کو میوزک سے کوئی دلچسپی پیدا نہ ہوتی۔پس ہر وہ شخص جو احسان کو تو قبول کر لیتا ہے اور محسن کی طرف اس کا دھیان نہیں جاتا وہ اندھا ہے۔اب اگر آپ کو ایک آرٹ سے