اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 507
حضرت خلیفہ اسح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۰۷ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء محبت ہو جائے اور آرٹسٹ کا خیال بھی دل میں نہ آئے تو بڑی بے وقوفی ہے۔آرٹ اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب تک آرٹسٹ کا وجود اسے پیدا نہ کرے۔پس انسان کا ہر حسن اللہ نے پیدا کیا ہے۔انسان کی ہر لذت اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔وہی رب العالمین ہے۔اُسی کا شعور آپ کے دل میں پیدا ہو گا تو آپ کو بغیر کوشش کے از خود اس سے محبت ہونی شروع ہو جائے گی۔اور یہ سفر بڑا لمبا ہے۔اور لا متناہی ہے۔مگر آپ کو اختیار کرنا ہے۔اور میں پہلے بھی آپ سے گزارش کر چکا ہوں کہ اور کچھ نہیں تو اپنے بچوں سے خدا کی محبت کی باتیں تو کیا کریں۔اگر اپنے بچوں سے باتیں کریں گی تو وہ باتیں جن کا آپکو پہلے شعور نہیں تھا وہ آہستہ آہستہ ہونا شروع ہو جائے گا۔جب بچوں کو کوئی چیز دیتی ہیں تو یہ تو بتایا کریں کہ کیسے بنی۔کیسے آئی ہے۔اور غور کے نتیجے میں پھر اللہ تعالیٰ کی محبت لا زما پیدا ہوتی ہے۔اس بزرگ کا واقعہ میں پھر آپ کو سُنا دیتا ہوں۔تا کہ آپ کو سلیقہ آئے خدا سے پیار کا۔ایک بزرگ کے متعلق آتا ہے کہ اُس کے سامنے ایک لڑؤں کا ٹوکرا پیش کیا گیا جبکہ اور مرید بھی بیٹھے ہوئے تھے اور مرید تو ، جب اُس نے لڈو بانٹے تو ایک ایک، دو دو، جتنے بھی تھے جلدی جلدی کھائے اور لطف اُٹھایا اور دیکھنے لگے کہ ہمارا پیر کر کیا رہا ہے۔وہ ایک ایک دانہ تو ڑتا تھا اور منہ میں رکھتا تھا اور سوچوں میں ڈوب جا تا تھا۔تو اس کے مریدوں میں سے ایک نے کہا کہ آپ کیا مزہ برباد کر رہے ہیں۔ہم نے تو لڈ وکھایا اور مزہ آیا پھر ہم نے دوسرا کھایا پھر تیسرا کھایا اور آپ ایک ایک دانہ کر کے لڑؤں کا مزہ بر باد کر رہے ہیں یہ کیا بات ہے؟۔آپ نے فرمایا تم نے مزے برباد کئے ہیں میں نہیں کر رہا۔میں تو جو مزے لے رہا ہوں تم تو تصور بھی نہیں کر سکتے۔ہر دانہ جو میں کھاتا ہوں۔اس کی مٹھاس محسوس ہوتی ہے تو میں سوچتا ہوں کہ دیکھو کیسا رب العالمین ہے۔کہیں دور کسی کھیت میں صبح صبح بھی لوگ سوئے ہوئے تھے ایک کسان ہل لے کر چلا تھا۔اُس نے زمین کا سینہ پھاڑا تھا۔اس نے تیاری کی گھاس پھوس کو دور کیا اور پھر بڑی محنت کر کے اُس نے شکر نے۔یعنی گنے کے ٹکڑے کئے اور انکو اس نے کاشت کیا اور پھر سارا سال محنت کی۔اس کو پانی دیئے بیماریوں سے بچایا ہر طرح اس کا خیال رکھا اور جا کر اس میں وہ گنے پیدا ہوئے جن میں مٹھاس آئی اور مٹھاس وہ تو نہیں بھر سکتا تھا۔اس نے تو گنوں کے ٹکڑے کاٹ کے مٹی میں ملا دیئے تھے۔اللہ ہی ہے جس نے انہیں اُگایا، اللہ ہی ہے جس نے پھر وہ نظام پیدا کیا جس سے گنوں کے اندر مٹھاس پیدا ہو گئی ورنہ بانس کے بانس رہ جاتے۔اور پھر اس نے محنت کی ، ان کو کاٹا پھر اس کا رس بنانے کے لئے اس نے وہ بڑے بڑے برتن خریدے پرانتیں ، جن میں رس ڈالا