اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 505 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 505

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۵۰۵ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء آجاتا ہے لیکن آواز کی طاقت سے۔تو اللہ تعالیٰ اس طرف بھی توجہ فرماتا ہے۔اپنی ربوبیت کے بیان میں۔فرماتا ہے تم دیکھتے نہیں کہ ماؤں کے پیٹ میں تم تھے کیا تم ایسے تھے کہ تمہیں کوئی ہوش نہیں تھا، تمہیں کوئی شعور نہیں تھا۔ہم نے جب انسان کو پیدا کیا فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (الدھر :۳) اچانک ہم نے اُس کو سنے کی طاقت بھی بخشی اور دیکھنے کی طاقت بھی بخشی۔پس انسان نعمتوں کا احاطہ کیسے کرے۔احاطہ ہی ممکن نہیں۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں کہ جب نعمتوں کا احاطہ ہی ممکن نہیں تو تعریف کیسے ممکن ہوگی۔پس شکر کا حق ادا ہو ہی نہیں سکتا مگر جو غور کرتے ہیں ان کو کچھ نہ کچھ تو شکر کی طرف توجہ مائل ہوتی ہے۔اس لئے غور ضروری ہے۔سب سے پہلا اور سب سے اہم اور آخری سبق یہ ہے کہ اپنی زندگی آنکھیں بند کر کے نہ گزاریں۔غور کریں اور شعور کی حالت میں خدا کی تلاش کریں اور اپنے نفس کے حوالے سے سمجھیں کہ آپ پر کتنے بڑے بڑے احسان ہیں۔معمولی سی اس کی رحمت کا پردہ اُٹھے تو آپ کی نعمتیں آپ کے ہاتھ سے نکل جاتی ہیں۔اب کان کی خرابیاں بھی بے شمار ہیں۔جن میں سے ایک خرابی بھی آپ کی سماعت کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ آوازیں دوسری طرف سے آنے لگتی ہیں۔بعض لوگوں کو یہ بیماری بھی ہو جاتی ہے کہ ادھر سے آواز میں سُن کے جار ہے ہیں، آواز دوسری طرف سے آرہی ہوتی ہے۔اور رُخ ہی بدل جاتے ہیں ان کے۔اتنی باریک لطافتیں ہیں ان حسوں میں جو خدا نے ہمیں عطا کئے ہیں کہ ان کا احاطہ ہی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ساری کائنات اور غیب کے مضمون کا احاطہ کیسے کر سکے گا۔تو جب تک کسی کے احسانات ، اس کے حسن کے تصور میں نہ ڈھلیں اس وقت تک محبت نہیں ہوسکتی۔پس محبت کا اگر پہلا قدم ہی آپ نے نہ اُٹھایا تو ساری عمر یہ کہتے ہوئے کہ ہم خدا سے محبت کرنا چاہتے ہیں خدا سے محبت کریں گے۔وقت ضائع کر دیں گی اور کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔بیدار ہو جائیں ، شعور کی حالت میں خدا کی طرف سفر شروع کریں۔اپنے دن رات پر غور کریں۔اللہ تعالیٰ کے آپ پر جو احسانات ہیں ان پر غور کریں، اگر غور کریں تو پھر آپ کو محرومی کی حالت میں بھی خدا کے خلاف کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوگا۔بلکہ اُس کا شکر پیدا ہوگا۔ایک آدمی جب اندھا ہو جاتا ہے۔اس کے دو قسم کے رد عمل ہیں یا تو یہ کہ وہ رونے پیٹنے لگ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کیوں اندھا کر دیا۔اور میں نظر سے محروم ہو گیا۔یہ کیسا خدا ہے جو ظالم ہے۔اس نے یہ احساس نہیں کیا کہ مجھے اس سے تکلیف ہوتی ہے۔لیکن اگرہ وہ بہرہ بھی ہو جائے تو کیا کر سکتا ہے۔اگر وہ چکھنے کی لذت سے بھی محروم رہے تو کیا کر سکتا ہے۔اگر اس کا کوئی ادنی ساعذر بھی اُس کا ساتھ چھوڑ دے۔ایک