اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 412
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کےمستورات سے خطابات مسیح ۴۱۲ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء یہاں جب ہم درختوں کی بات کرتے ہیں تو شجرہ طیبہ کی بات کرتے ہیں، کسی ظاہری دنیاوی درخت کی بات نہیں کر رہے۔قرآن کریم کے وہ احکام جو آپ کو ایک پاک، دائمی ، ابدی زندگی کی طرف بلاتے ہیں ایک آسمانی زندگی کی طرف بلاتے ہیں اس کی مثال قرآن کریم نے شجرہ طیبہ سے وہ دی ہے جس کی جڑیں تو زمین میں پیوست ہیں مگر شاخیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں اللہ کے حکم سے و اپنا رزق پاتے ہیں، اللہ کے حکم سے ہر موسم میں پھولتے اور پھلتے ہیں، نہ خزاں ان کو نقصان پہنچاتی ہے نہ بہار، وہ دائمی پھولنے پھلنے والے درخت ہیں جو دائما اللہ کی رحمت کو خدا کے عطا کردہ روحانی پھلوں کے ذریعہ دنیا کے لئے بھی ایک نعمت کا سامان پیدا کرتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگر کوئی قوم اس مقصد پر گامزن رہے اور ہمیشہ اس پر نظر رکھے کہ میری عمومی صورت، میرا عمومی کردار مجھے اللہ کی رحمت کے پھلوں کا مجھے وارث بنا رہا ہے یا نہیں بنارہا، اگر یہ سوال ہمیشہ اُٹھتا رہے تو پھر جو بھی رستہ تجویز ہوگا وہی درست رستہ ہے امر واقعہ یہ ہے کہ ہر مذہب کا مقصد اللہ کے قریب تر کرنا ہے۔پس سب سے پہلے پردے کے تعلق میں میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ظاہری الفاظ کے چکر میں پڑے بغیر آپ میں سے ہر خاتون یہ فیصلہ خود کرسکتی ہے کہ میں نے جس رنگ کے پردے کو اپنایا ہے جس رنگ کے پردے کو میں اپنی بچیوں میں رواج دے رہی ہوں اور آئندہ نسلوں کے لئے بھیج رہی ہوں کیا یہ مجھے خدا سے قریب تر کر رہا ہے یا خدا سے دور ہٹا رہا ہے۔اگر خدا سے دور ہٹا رہا ہے تو آپ کے قدم اُس جنت سے باہر کی طرف ہیں جس جنت سے ایک دفعہ پہلے کہا جاتا ہے کہ تو انے آدم کو بھی نکالا ، خود بھی نکلی اور ان سب ساتھیوں کو جو اُن کے ساتھ تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا ( البقره: ٣٩) اب صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ تم سب کے سب یہاں سے نکل جاؤ۔جنت کا عورت سے گہرا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں قرآن کریم نے عورت کو تسکین کے طور پیش کیا ہے کہ اگر عورت کو انسان کی قدروں سے نکال لیا جائے تو دلوں کی تسکین اُٹھ جائے ، زندگی بور ہو جائے ، کوئی لذت کچھ بھی باقی نہ رہے نہ کمانے کے وہ شوق رہیں نہ کھانے پہنے کے کوئی شوق رہیں۔ایک سوسائٹی جس میں مرد ہی مرد ہوں اور عورت کا کوئی تصور نہ ہو وہ سوسائٹی تو بے حد رنگ وروپ سے عاری اور خوشبو سے عاری ہو جاتی ہے، اس میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا اس لئے عورت کے