اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 411 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 411

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۱۱ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء اسلامی معاشرہ سب سے زیادہ قابل قدر چیز ہے اور اس کو ہم نے نافذ کرنا ہے، ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے، ہم نے اس کو لے کر آئندہ مستقبل میں بڑھنا ہے۔اگر غیروں کی نقالی میں تم اپنی قابل عزت اور قابل احترام چیزوں سے شرمانے لگو گے تو پھر دنیا میں نیکی پر شرم آنے لگے گی اور بدیاں قابل فخر ہو جائیں گی اور یہ بات جو میں کہتا ہوں یہ بالکل حقیقت ہے۔اسی طرح قو میں تر ڈ دا ختیار کرتی ہیں جب بھی کوئی خوبی کی بات جو حقیقت میں خوبی ہو اس سے تو میں شرمانے لگیں اور بدیوں پر بے حیائی اختیار کریں تو پھر وہ دن ہے جو قوم کے تنزل کے متعلق ایک تقدیر لکھ دیتا ہے پھر آئندہ ہمیشہ وہ قوم تنزل پذیر ہوتی چلی جاتی ہے، گرتی چلی جاتی ہے اور اُسے پھر سنبھالا نہیں جاسکتا۔پس ہم نے ایک قدر کی حفاظت کرنی ہے اس بحث میں نہ مبتلا ہوں کہ پردہ اتنا سخت ہے یا اتنا سخت ہے۔پردہ کی روح کو سمجھیں اور ہر احمدی خاتون میں پردے کی روح نمایاں طور پر دکھائی دینی چاہئے۔اس پہلو سے میں آپ کے سامنے یہ مضامین کھول رہا ہوں۔قرآن کریم کے حوالے سے اس کو غور سے سنیں اور سمجھیں اور اپنے لئے ایک لائحہ عمل تراشیں۔اس سے پہلے میں یہ بھی بتا چکا ہوں کہ اگر آپ کے نزدیک پردہ اتنا سخت نہیں جتنا بعض لوگوں کے نزدیک ہے لیکن آپ نے وارثت میں وہ پردہ پایا ہوا ہے تو پھر ایک دم اس کو کھولنا اور ایک دم اپنے طریق کو بدلنا یہ بھی خطرناک بات ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں بسا اوقات آپ کی نئی نسلیں یہ تا قمر لیتی ہیں کہ آپ پردہ چھوڑ رہی ہیں اور اب آئندہ کی نسل کے لئے گویا اجازت ہے کہ جو چاہے کرتی پھریں اور ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ہمیشہ نئی نسلیں یہی تاثر لیتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں پردے کی اعلیٰ اقدار پاؤں تلے روندی جاتی ہیں یا پیٹھ پیچھے پھینک دی جاتی ہیں۔یہ ہے ضروری کیونکہ قرآن کریم نے اس کو مختلف پہلوؤں سے مختلف رنگ میں بیان فرمایا ہے اور آئندہ زمانے کی جنت کی تعمیر کے لئے پر دے کی روح کو سمجھنا اور اسے نافذ کرنا حد سے زیادہ ضروری ہے۔ایک تو اوہ تھی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ جنت سے نکالنے کا موجب بنیں۔اے احمدی بیٹیو! اے احمدی ماؤں ! اے احمدی بہنوں! میں تمہیں وہ تو ا دیکھنا چاہتا ہوں جو از سر نو اس جنت میں داخل کرنے کا موجب بنیں اور پھر ہمیشہ کے لئے اس جنت میں ہم داخل رہیں اور اس کے امن کی چاردیواری میں اللہ کی رحمتوں کے پھل کھاتے رہیں اور پھر کسی شیطان کو توفیق نہ ملے کہ ہم اس جنت سے ہمیشہ کے لئے نکالے جائیں۔یہ وہ جنت ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر دوبارہ نازل ہوئی شریعت اسلامیہ کی صورت میں نازل ہوئی۔