اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 410 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 410

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۱۰ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء نے ایک خاص رنگ اختیار کیا ہے۔اسے ہمیشہ کے لئے دائگی مثال نہیں بنایا جاسکتا۔دائگی مثال وہی ہے جو قرآن کریم نے پیش فرمائی ہے اور اس میں تمام پہلو دیکھے گئے ہیں۔ہر صورت حال کا ذکر ہے اور اس صورت حال میں پردے کے کیا معنے بنتے ہیں اس کے متعلق قرآنی تعلیم موجود ہے۔پس یہ جو تعلیم آپ کے سامنے پیش کروں گا اس کے پیش نظر آپ خود اپنے لئے ایک راہ معین کریں۔اس قافلے کا جس کا میں نے ذکر کیا ہے وہ بہت لمبا ہے۔ایک اس کے سر پر وہ خواتین ہیں جن کا میں ذکر کر چکا ہوں اس کے پیچھے وہ ہیں جو پردے کو بے عزتی سمجھتی ہیں اور پردے سے شرماتی ہیں۔اُن کا پردہ چھوڑنا ضرورت کے نتیجے میں نہیں بلکہ پردے کے حکم سے حیا کرتے ہیں اپنا جسم دکھانے میں اُن کو حیا محسوس نہیں ہوتی مگر قرآنی سنت کو اختیار کرنے میں اُن کا دل حیا محسوس کرتا ہے اور اس پہلو سے بعض خاندان ہیں جماعت احمدیہ میں جو بعض دوسری باتوں میں بڑے مخلص دکھائی دیں گے مگر ان کی روایت بن گئی ہے کہ ہمارے خاندان میں پردہ نہیں آسکتا ہم اونچے ہیں، پردہ تو پرانے زمانے کے لوگوں کا کام ہے، نسبتا ادنی ترقی یافتہ خاندانوں کا کام ہے۔اس طرح بعض پیشوں کے ساتھ پردے سے حیا وابستہ ہو جاتی جارہی ہے۔مثلاً فوج کے افسر جو ہیں اور بعض ایس پی افسران وغیرہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں تو پردہ نہیں چل سکتا۔ہم تو جب تک چھوٹے درجے پر تھے ( وہ اپنے آپ کو اب بڑے درجے پر سمجھ رہے ہیں نا ) اب فوج میں افسر ہو گئے اور بڑا درجہ کیا مل سکتا ہے اُن کو یا کسی حکومت کے نوکر ہو گئے ، یہ بھی وہ سمجھتے ہیں بہت بڑا درجہ عطا ہوا ہے۔تو اب پر دے کے درجے چھوٹے ہیں ہمارے درجے اُونچے ہو گئے۔اگر ہماری بیویاں اسی طرح ہمارے ساتھ پردہ کر کے چلیں گی تو ہمارے آئندہ کے امکان پر ایک بد سایہ پڑ جائے گا اور ضروری ہے کہ ہماری بیویاں اس طرح کا کردار اختیار کریں جیسے غیر احمدی بیویاں کرتی ہیں اور اس سوسائٹی میں اس طرح ملیں جس طرح غیر احمدی بیویاں ملتی ہیں۔تو گویا وہ احمدیت سے نکل کر مگر احمدیت میں رہتے ہوئے ایک الگ جزیرہ سا بنا لیتے ہیں اور جب تک یہ جزیرہ اُن لوگوں میں ڈوبا ر ہے جن کا وہ اصل میں حصہ ہے اس وقت تک کوئی خاص طور پر تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ہمیں پتہ ہی نہیں وہ بیٹھے کیا کر رہے ہیں لیکن جب یہی لوگ اس شان کے اور اسی مزاج کے ساتھ باقی احمدیوں میں داخل ہوتے ہیں اور اُن پر اثر انداز ہوتے ہیں تو وہاں پھر خطرے کی گھنٹی بجنے لگتی ہے اور ان کو سمجھانے کے لئے طبیعت مائل ہوتی ہے کہ تم کس بات کو فخر بنائے ہوئے ہو۔یہ دنیا کی چھوٹی موٹی عزتیں، یہ چند ترقیاں، چند افسریاں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔