اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 409
حضرت خلیفہ انسخ الرابع" کے مستورات سے خطابات مسیح ۴۰۹ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء فرمایا ہے اور مختلف پہلوؤں سے اُس پر روشنی ڈالی ہے اُس روح کو جب تک ہمیشہ پیش نظر نہ رکھیں گی اس وقت تک آپ کو حقیقت میں علم ہو ہی نہیں سکتا کہ پردہ ہے کیا اور کن حالات میں کس حد تک اس میں نرمی کی گنجائش ہے کن حالات میں مزید احتیاط کی ضرورت ہے پس بجائے اس کے محض کوئی ایک ملک میں آپ کے سامنے پیش کروں میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس قافلے کے سر پر تو ایسی خواتین آپ کو دکھائی دیں گی جن کے نزدیک ہاتھوں کا نظر آنا بھی پردے کے خلاف ہے ، جن کے نزدیک آنکھیں اگر کسی کونے سے دکھائی دے جائیں تو وہ بھی بے پردگی ہے اور اس طرح یہ باہر پھریں تا کہ دنیا کو پتہ چل جائے کہ اگر مسلمان ہوں گے تو پردہ کرنا پڑے گا۔اس کے برعکس اس کے پیچھے پیچھے کچھ ایسے لوگ ہیں جو درمیانی مزاج رکھتے ہیں پردہ کرتے ہیں مگر اس سختی سے اپنے چہرے کو ڈھانپتے اور کستے نہیں ہیں کہ گویا چہرہ دکھائی دینا ہی بہت بڑا گناہ ہے اور متلون مزاج بھی ہیں ان میں لیکن متدین مزاج بھی ہیں۔کبھی متلون مزاج ان معنوں میں کہ کبھی احمدیوں میں آتے ہیں تو پرده نسبتا سخت ہو جاتا ہے کہیں غیروں میں جاتے ہیں تو کچھ زیادہ ڈھیلا ہو جاتا ہے۔ان کو میں متلون مزاج کہتا ہوں متدین مزاج وہ ہیں جو مناسب متوان طرز عمل ہر جگہ برابر اختیار کرتے ہیں۔جو ان کا پردہ احمدی مجالس میں ہے وہی پردہ غیروں میں جا کر ہوتا ہے، جو ایک ملک میں ہے وہ دوسرے ملک میں بھی چلتا ہے اور اس پہلو سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔جب آصفہ زندہ تھیں تو اُن کو میں نے اس معاملہ میں ضرورت سے زیادہ سخت پردہ کرنے کا نہ کبھی کہا نہ مناسب سمجھا کہ وہ وہی نمونہ پیش کریں جو اس سے پہلے پیش کیا جاتا رہا ہے کیونکہ اس معاملے میں مختلف خواتین کا پس منظر کس طرح ان کی تربیت کی گئی کس ماحول میں وہ تھیں کس ماحول میں اُن کو پردہ سکھایا گیا یہ بھی تعلق ہے اس پس منظر سے جس میں حضرت امام جماعت احمد یہ الثالث کی بیگم اس سے پہلے پردہ کیا کرتیں تھیں لیکن وہ ماحول جس میں اُس پردے کی ضرورت تھی وہ اور تھا۔اس بحث میں پڑے بغیر کہ کس حد تک وہ پردہ بعینہ اسلامی تھا ہمیشہ یہ کہا تھا کہ آپ وہ مناسب پردہ رکھیں جو بعض لوگوں پر دوبھر نہ ہو اور بعض لوگوں کو کھلی چھٹی بھی نہ دے، اپنے آپ کو سنبھال کر رکھیں۔کچھ چہرہ اگر دکھتا بھی ہے تو میرے نزدیک کوئی حرج نہیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام میں چہرے کو اس طرح کسنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ہاں بعض حالات میں بعض معاشروں میں جبکہ غیروں کے ساتھ مقابلے تھے، جبکہ اس کے متعلق مسلمانوں میں بھی گروہ بٹ رہے تھے کوئی پردے کے قائل تھے تو کوئی بالکل چھٹی کر گئے تھے اس وقت سے احمدیت