اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 408
حضرت خلیفہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۰۸ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء ہو تو بعینہ یکساں صورت نہیں رہا کرتی۔کچھ اثر قبول کئے جاتے ہیں کچھ اثر چھوڑے جاتے ہیں اور اس طرح باہم امتزاج سے جو وسیع پیمانے پر ہوا ایک نیا مزاج اُبھرتا ہے اور نیا مزاج ظاہر ہو جاتا ہے۔پردے سے متعلق میں خصوصیت سے آج اس لئے آپ سے مخاطب ہوں کہ یہ امور جو میں نے بیان کئے ہیں ان کے نتیجے میں مختلف ممالک میں مختلف سوال اُٹھتے رہتے ہیں اور مجھ سے پوچھے جاتے ہیں۔مسلمانوں کی طرف سے بھی اور غیر مسلموں کی طرف سے بھی اور اس کے علاوہ احمدیوں کی طرف سے بھی جو پاکستان میں یا ہندوستان میں بستے ہیں۔باہر مختلف رنگ میں توجہ دلائی جاتی ہے لیکن اس مضمون کو کھولنے سے پہلے جو میں قرآن کریم کی آیات اور احادیث کے حوالے سے کھولوں گا میں مزید آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس وقت احمدیت کا قافلہ بہت لمبا ہو چکا ہے۔ایک سرا اس کا جوا گلاسرا ہے اُس کی اور کیفیت ہے جو سب سے آخر پر چل رہا ہے اس کی اور کیفیت ہے بیچ میں مختلف مزاج اور مختلف نوعیت کے لوگ شامل ہیں اس لئے ان سب کا مختصر اذکر ضروری ہے تا کہ آپ کو پتہ چلے کہ پردے کے تعلق میں احمدی خواتین کیا مسلک اپنائے ہوئے ہیں اور کتنے مسلک اس جماعت کے اندر اس وقت Already یعنی پہلے ہی سے موجود چلے آرہے ہیں۔سب سے آگے قافلے کے سر پر جو گروہ اس وقت گامزن ہے اُس میں آپ پر دے کو عموماً پاکستانی برقعے کی صورت میں اس طرح دیکھتی ہیں کہ بعض دفعہ وہ شدت سے بہت بڑھ چکا ہوا ہوتا ہے۔میں نے بعض ویڈیوز دیکھی ہیں جو پاکستان میں تیار ہوئیں اور یہاں MTA پر دکھانے کے لئے بھیجی گئیں لیکن دل میں تر ڈ دہوا کہ ان کو اُس طرح پیش کیا جائے۔کیونکہ جب پردے کا تصور ایک عالمی حیثیت اختیار کر چکا ہو اور ہر نوع کے دیکھنے والے اور ہر قسم کے دیکھنے والے ہوں تو محض ایک نمونے کو خالصتہ اسلامی نمونے کے طور پر پیش کرنا یہ پردے کے لئے ممد ہونے کی بجائے اس کی راہ میں حائل ہو سکتا ہے اور اس کے رد عمل ایسے ہو سکتے ہیں جو بالآخر اسلام کو فائدہ پہنچانے کی بجائے اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔پس ایسا کس کر برقعہ باندھا ہو اور صرف آنکھیں نگی ہونے کا احتمال ہو اور اس پر بھی کالی عینک چڑھی ہو جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں عینک کا رواج ہی کوئی نہیں تھا نہ بنائی جاتی تھیں۔تو سوال یہ ہے کہ کیا یہی اسلامی پردہ ہے جس کو اختیار کرنا مسلمان خاتون کا فرض ہے اس کے علاوہ اس سے ہٹ کر جو بھی طرز اختیار کی جائے وہ غیر اسلامی ہوگی؟ اگر یہ تصور ہے تو یہ غلط تصور ہے۔پردے کی ایک روح ہے جسے تفصیل سے قرآن کریم نے بیان