اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 394
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات کھانے پینے کی اشیاء ہم تک پہنچ ہی جاتی تھیں۔۳۹۴ خطاب ۲۶ / اگست ۱۹۹۴ء یہ وہ زمانہ تھا جب کہ ربوہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدام کی ٹیمیں مختلف جگہ بھجوائی جاتی تھیں اور دوسرے علاقوں سے بھی ،سرگودھا کے دیہات سے بھی لوگ آتے تھے، بعض دوسرے ایسے علاقے جہاں نسبتاً امن تھا مثلاً سیالکوٹ وغیرہ وہاں سے بھی بہت مخلص نو جوان اپنے آپ کو پیش کرتے تھے اور دن رات ہمارا وہاں یہ کام تھا کہ مختلف علاقوں کی خبروں کے لئے ان کو استعمال کیا جائے۔وہ ایسے بھیس بدل کر وہاں پہنچتے تھے جیسے شکل سے وہ احمدی پہچانے نہ جائیں اور بسا اوقات وہ اچانک ان کا گھیرا توڑ کر کھانے پینے کی اشیاء لے کر مظلوم گھروں تک پہنچ جایا کرتے تھے۔پھر جب واپس آتے تھے تو اس حال میں کہ ان کے چہرے بگڑے ہوئے ، ان کا حلیہ پہچانا نہیں جاتا تھا۔ایک ایسا ہی قافلہ جو خدام کا احمدی گھروں کو خوراک دینے کے لئے بھجوایا گیا تھا جب وہ واپس آیا تو مجھے یاد ہے میں قصر خلافت سے نکل کر مسجد مبارک میں نماز کے لئے جارہا تھا، رستے میں ایک بڑی بھیانک شکل کا آدمی مجھے نظر آیا جس کا منہ سوجا ہوا اور کپڑے پھٹے ہوئے لیکن مسکرا رہا تھا۔میں حیران کہ اس کو اندر آنے کیوں دیا گیا ہے۔یہ ہے کون؟ تو جب اس سے پوچھا تو پتہ لگا کہ ہماراہی بھیجا ہوا ادم تھا اور وہ خوشی سے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو یہ خبر دینے وہاں آیا تھا کہ خدا کے فضل سے ہم بھوکوں کو بھوک سے مرنے سے بچانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور بڑی دردناک کہانی تھی جس طرح ان نو جوانوں نے پتھر کھاتے ، ماریں کھاتے ، ان پر ڈنڈے برسائے جارہے تھے مگر قوت کے ساتھ ، زور کے ساتھ دوڑ کر ان گھروں تک پہنچ گئے اور ان بچوں کو جو بھوک سے بلک رہے تھے ان کو خوراک مہیا کی۔بہت ہی عظیم دور تھا جس کی یادیں اتنی گہری اور اتنی عظیم ہیں کہ ان کے تصور سے ہی انسان کی روح پگھل جاتی ہے۔آپ لوگ جن کو یہ تجربہ نہیں ہے آپ کو اندازہ نہیں کہ کیسے عجیب دن تھے وہ اور خدا کے فضلوں کو بھی کس طرح ہم نے آسمان سے برستے دیکھا ہے۔غرضیکہ جیسا کہ اس خاتون نے گواہی دی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اللہ تعالیٰ رزق کا انتظام کرہی دیتا تھا، میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ اس رزق کے انتظام میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اسی کی دی ہوئی توفیق سے احمدی نوجوانوں کی عظیم قربانیاں شامل ہیں۔کہتی ہیں ہمارا تمام کاروبار ختم ہو گیا۔بچے چھوٹے چھوٹے تھے بھوک سے روتے دیکھے نہ جاتے تھے مگر خدا کو ہمارا زندہ رہنا منظور تھا۔شیر خوار بچے کے لئے دودھ کی بہت مشکل تھی۔دودھ تو