اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 393 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 393

۳۹۳ خطاب ۲۶ اگست ۱۹۹۴ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات انہوں نے کلمہ پڑھا تھا اور احمدی کا کلمہ پڑھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی گستاخی ہے کہ اُس کی سزا موت کے سوا کچھ نہیں۔پس پہلے تو دنیا میں اختلاف کی سزائیں ملا کرتی تھیں اب مولوی کی بد بخت دنیا میں اتفاق کی بھی سزائیں مل رہی ہیں اور یہ نیا دستور ظلم وستم کا جاری ہوا ہے جو اس سے پہلے مذہب کی تاریخ میں آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گا۔تمام دنیا کی مذہبی تاریخ پڑھ کر دیکھ لیں کسی کے عقیدے سے انکار کے نتیجے میں تو سزا ملتی رہی مگر اس کے عقیدے کی تائید میں پہلے کبھی سزا نہیں دی گئی تھی۔کہتی ہیں جب بچے سکول جاتے روتے ہوئے گھر آتے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہتی ہیں آپ کے گھر کے قریب غیر احمدیوں کی مسجد تھی جمعہ کے دن وہ لوگ آپ کے گھر پر پتھر پھینکنے آگئے ، گھر کے سارے شیشے توڑ دیئے اور ہر جمعہ یہی رواج بن گیا کہ جمعہ سے فارغ ہو تو اللہ کے فضل کو تلاش کرو، یہ بد بخت اس طرح خدا کا فضل تلاش کرتے تھے کہ مظلوم عورتوں اور بچوں پر پتھراؤ کرتے اور گندی گالیاں دیتے اور یہ فضل الہی کی تلاش کے نئے اسلوب ایجا دکر رہے تھے۔کہتی ہیں بالآخر جب ہم نے استقامت دکھائی اور اُسی حال میں اس گھر میں ٹھہرے رہے تو ایک دن انہوں نے گھر کو اس طرح آگ لگائی کہ سارا گھر پھونک دیا۔اور سوائے خاکستر جلی ہوئی اینٹوں کے وہاں کچھ بھی نہ بچا۔ہم بمشکل ننگے پاؤں اور ننگے سر وہاں سے نکلے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے پھندے سے نجات بخشی لیکن اس حال میں کہ گھر کا سارا سامان ، ساری عمر کی جائیداد، سب کچھ خاک کا ڈھیر بن چکا تھا۔شمس النساء صاحبہ اہلیہ شیخ غلام احمد صاحب بہاولنگر لکھتی ہیں کہ ۷۴ء میں ہنگامے شروع ہوئے تو ہر جگہ جلوس اور ماردھاڑ شروع ہوگئی۔بہاولنگر میں جلوس نکلے۔احمدیوں کو اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو انتہائی گندی گالیاں دی گئیں۔ان کے ہاتھ میں مٹی کے تیل کی بوتلیں اور ڈنڈے اور پتھر تھے۔جب یہ جلوس بازار آیا تو پولیس بھی آگئی مگر وہ خاموش تماشائی بنی رہی۔جلوس والوں نے میرے دیور کی کپڑے کی دوکان پر تیل چھڑک کر آگ لگادی اور باقی احمدیوں کی دکانوں کو بھی توڑ پھوڑ کر چلے گئے۔اگلے دن ہماری دوکان کا دروازہ توڑا جنرل اسٹور کا سارا سامان لوٹ کر اور تو ڑ کر چلے گئے۔یہ توڑ پھوڑ ،لوٹ مار ہر روز کا معمول بنا ہوا تھا۔احمدیوں کے گھروں پر پتھراؤ کیا جاتا ، سب لوگ گھروں میں بند، دعاؤں کا ورد کرتے رہتے۔ہمیں حضور کا حکم تھا کہ جگہ نہ چھوڑی جائے اور گالیوں کا جواب اشتعال میں آکر ہر گز نہ دیا جائے۔اُدھر انہوں نے سوشل بائیکاٹ بھی کر دیا ، مکانوں پر پہرے بٹھا دیئے کہ ان کے گھروں میں کھانے پینے کی اشیاء نہ جائیں مگر خدا ہمارا رازق تھا، کسی نہ کسی طرح