اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 379
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات پہاڑ تھے جہاں پہ بالآخر وہ دفن کی گئی۔خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء مقبول شہید صاحب کی بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ میرے شوہر مقبول احمد نے ۱۹۶۷ء میں بیعت کی تھی۔احمدیت قبول کرنے کے بعد مولوی آپ کو بہت تنگ کرتے تھے۔دھمکیاں دیتے ، رات کو گھر میں پتھراؤ کرتے دروازے کھٹکھٹاتے۔آپ کا لکڑی کا آرا تھا ایک دن ایک نقاب پوش شخص لکڑی خریدنے کے بہانے آیا اور خنجر نکال کر آپ پر پے در پے وار کئے اور وہیں شہید کر دیا۔شوہر کی شہادت کے بعد سسرال والوں نے کہا جو غیر احمدی تھے کہ احمدیت چھوڑ دو تو ہم تمہیں پناہ دیں گے۔دشمن بھی دھمکیاں دیتے رہے کہ احمدیت چھوڑ دو اور ہمارے ساتھ مل جاؤ ہم تمہیں سینے سے لگالیں گے لیکن میں نے ان سب باتوں کو حقارت سے رد کر دیا اور ان سے کہا کہ جو کچھ کر سکتے ہو کر گز رو کسی قیمت پر بھی میں احمدیت کو نہیں چھوڑوں گی جس کی خاطر میرے شوہر کو آپ نے شہید کیا ہے اور اس نے بڑی خوشی سے یہ قربانی دی تھی۔مریم سلطانہ صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر محمد احمد خان صاحب بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے خاوند اور چار بچوں کے ساتھ ضلع کو ہاٹ کے علاقے ٹل میں مقیم تھی۔اس علاقے میں کوئی احمدی گھرانہ نہ تھا۔۱۹۵۳ء کے فسادات میں وہاں مخالفت کی آگ بہت بھڑ کی۔مخالفین میرے خاوند کو دھوکہ دے کر لے گئے اور غیر علاقے میں لے جا کر شہید کر دیا۔جب آپ کو شہادت کی خبر ملی تو ارد گرد کوئی بھی آپ کا دوست نہ تھا سب مخالف تھے۔اپنے آپ کو دلاسا دیا اور ہمت کر کے بچوں کو خدا کے سپر د کر کے اپنے میاں کی نعش لینے کے لئے نکل کھڑی ہوئی۔جس قسم کے حالات تھے نعش کا ملنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔آپ لاش تلاش کرتی پھرتی تھی۔کہتی ہیں میں لاش تلاش کرتی پھرتی تھی اور شہر کے لوگ میرے شوہر کے قتل پر خوشیاں منا رہے تھے۔میں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔کوئی میرے غم میں شریک نہ تھا آخر انہوں نے لاش حاصل کر لی اور ٹرک کا انتظام کیا۔بڑی بہادر خاتون تھیں خودا کیلئے ہی یہ سارے کام کئے پھر ٹرک کا انتظام کیا۔اس میں لاش رکھ کر چاروں بچوں کو لے کر ربوہ روانہ ہوگئیں۔کہتی ہیں میں آہوں اور سسکیوں میں زیرلب دعائیں کرتی رہی۔آپ کے شوہر کی دکان بھی لوٹ لی گئی۔قاتل وہاں دندناتا پھرتا تھا لیکن کوئی اسے پکڑنے والا نہ تھا لیکن خدا کی پکڑ سخت ہوتی ہے۔یہ پاگل ہو گیا اور دیوانگی کی حالت میں گلیوں میں نیم برہنہ پھرتارہا اور کچھ عرصہ نظر آنے کے بعد کہیں ہمیشہ کے لئے گم ہو گیا۔جو شخص مریض دکھانے کے بہانے ڈاکٹر کو بلانے آیا تھا