اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 380 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 380

حضرت خلیفہ اسیح الرابع کے مستورات سے خطابات خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء اس کا سب سامان لٹ گیا اور گھر لٹ گیا سب صدمے برداشت کرنے پڑے یکے بعد دیگرے تین بھائی مرے اور باپ بھی مر گیا اور وہ تنہا رہ گیا یہاں تک کہ پھر آخر اسے بھی خدا کے حضور حاضر ہونا پڑا۔یہ واقعات بتارہی ہیں کہ میں نے نظر رکھی تھی کہ ان لوگوں سے کیا خدا کی تقدیر کرتی ہے۔تو یہ میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ ضرور آتی ہے خواہ ہم اس کا تتبع کریں اور ان واقعات کو محفوظ کریں یا نہ کریں۔یہ بات درست ہے کیونکہ جب میں وقف جدید میں تھا تو میں نے بطور خاص اس کام پر کچھ خدام کی ڈیوٹی لگائی تھی۔کچھ مبلغین وقف جدید کی کہ وہ ایک ایک گھر جائیں جہاں مصیبتیں ٹوٹی تھیں اور ان کے حالات کا جائزہ لیں اور گواہیوں کے ساتھ قلم بند کریں کہ اللہ تعالیٰ نے پھر ان سے کیا سلوک فرمایا اور ان ظالموں کا بھی پتہ کریں اور ان کا ریکارڈ رکھیں جنہوں نے احمدیوں کے ساتھ یہ ظالمانہ سلوک کئے تھے اور پھر ان سے خدا کا سلوک کیا ہوا۔وہ واقعات وہاں کہیں میرے دفتر میں ابھی بھی محفوظ پڑے ہوں گے لیکن حیرت انگیز خدا تعالیٰ کے دو طرح کے نشانات میرے سامنے آئے۔ایک حسن و جمال کے نشانات جو مظلوم احمدیوں کے حق میں بعد میں ظاہر ہوئے اور اس کثرت سے ظاہر ہوئے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور ایک اس کی جلالی شان کے نشانات تھے اور کس طرح خدا نے ان ظالموں کو ایک ایک کو پکڑا اور ان کو سزائیں دیں۔پس یہ جو دوسرا پہلو ہے اس کی طرف بھی جماعت کو توجہ کرنی چاہئے۔یہ جتنے حالات میں بیان کر رہا ہوں ان کو بھی زیر نظر رکھیں اور جو بکثرت اور ہیں جو بیان میں احاطہ تحریر میں نہیں آسکتے ان کو بھی زیر نظر رکھیں اور باقاعدہ تحقیق کے ذریعے معلوم کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اس اپنی راہ میں شہید ہونے والے یا دوسرے مظلومین کے ساتھ کیا سلوک فرمایا اور ان کے دشمنوں سے پھر کیا سلوک فرمایا۔ڈاکٹر منور احمد صاحب شہید سکرنڈ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی شہادت سے قبل انہوں نے خواب دیکھا کہ میری سونے کی چوڑیوں میں سے ایک چوڑی ٹوٹ کر گر گئی ہے اور ساتھ ہی بہت بڑا ہجوم ہے اور عورتیں باری باری میرے گلے لگ کر رو رہی ہیں اور میں سمجھ نہ سکی کہ وہ کیوں رو رہی ہیں۔صبح اُٹھ کر پریشان رہی ،صدقہ بھی دیا مگر یوں محسوس ہوا کہ جسم سے جان نکل گئی۔ڈاکٹر صاحب کو خواب سنائی تو کہنے لگے اللہ پر بھروسہ رکھو جورات قبر میں آنی ہے وہ باہر نہیں آئے گی۔بہت بہادر انسان تھے اور کہا کرتے تھے کہ شہادت کسی کو نصیب ہوا کرتی ہے۔یہ نصیبوں والوں کا حصہ ہے کاش یہ رتبہ مجھے نصیب ہو۔سکرنڈ کے حالات زیادہ خراب ہوئے تو مجھے کہنے لگے کہ