اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 375
حضرت خلیفہ اسح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۳۷۵ خطاب ۳۰ جولائی ۱۹۹۴ء نہ ملی۔بعض لوگوں نے بتایا کہ ہمارے گھروں کو جلوس نے آگ لگادی ہے اور وہاں پر موجود تمام افراد زخمی ہو گئے ہیں حالانکہ اس وقت ان کو سب کی شہادت کی اطلاع مل چکی تھی۔یعنی ہماری دلداری کی خاطر کہ ہمیں زیادہ صدمہ نہ پہنچے باوجود ان کی شہادت کی اطلاع کے صرف اتنا بتایا گیا کہ وہ زخمی ہیں۔اس شام کو جب ایک ٹرک چھ شہیدوں کو لے کر را ہوالی پہنچا تو اس وقت ہمیں پتہ چلا کہ ہمارے پیارے تو شہید ہو چکے ہیں اور ان کی لاشیں اس ٹرک میں موجود ہیں مگر جلوس ٹرک کے پیچھے تھا، نہ جانے وہ ان لاشوں سے مزید کیا سلوک کرنا چاہتے تھے جنہیں پہلے ہی ڈنڈے اور پتھر مار مار کر شہید کیا گیا تھا۔ٹرک ان لاشوں کو لے کر چلا گیا وہاں سے پیچھے چھوڑا ہی نہیں وہاں۔یہ میرا اندازہ ہے لکھا ہوا ہے کہ جلوس کے خطرے سے وہ لاشوں کو لے کر آگے بڑھ گیا۔وہاں سے میں اور میری بیٹی انیسہ اپنے پیاروں کے آخری دیدار سے بھی محروم رہے۔ہم ان کے چہرے بھی نہ دیکھ سکے، میرا خوبصورت پاک طینت لخت جگر محمود احمد اور بیٹی کا جواں سہاگ ، میرا پیارا داماد سعید احمد بھی اپنی حقیقی معبود ومحبوب کے حضور حاضر ہو گئے۔یہ لمحے قیامت کے لمحے تھے۔بتانا چاہوں تو کیسے بتا سکوں گی، جس کا خاوند شہید ہوا، جس کا بیٹا شہید ہوا، جس کا داماد شہید ہوا سب کچھ لٹا کے بیٹھی تھی اور اپنے ایمان کی حفاظت کر رہی تھی۔اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے خدا سے دعا گو تھی۔کہتی ہیں تم مجھ سے پوچھتی ہو کہ میں بتاؤں کہ مجھ پر کیا گزری۔تم بتاؤ میں کیسے بتاسکتی ہوں کہ مجھ پر کیا گزری ہوگی۔یہ تین تو اللہ کو پیارے ہو گئے چھوٹا بیٹا شدید زخمی تھا۔بڑا بیٹا حوالات میں بند تھا۔اسے کچھ معلوم نہ تھا کہ اس کا باپ، چھوٹا بھائی ، بہنوئی تو شہید ہو چکے ہیں۔ان کی ماں بہن نہ جانے کس حال میں ہیں۔یہ اللہ ہی تھا جس نے ہمیں صبر کی توفیق عطا فرمائی۔صفیہ صدیقہ صاحبہ اپنے بیٹے کی شہادت کا واقعہ جب بعد میں انہوں نے لوگوں سے سنا وہ بیان کرتے ہوئے بھتی ہیں۔یکم جون کو جو جلوس سول لائن سے ہمارے گھروں اور مسجدوں پر حملہ آور تھا اس کے ساتھ جو پولیس تھی اس کا ایک سپاہی راہوالی کا رہنے والا تھا۔اس نے بتایا کہ میں بہت سے جائے حادثات پر گیا ہوں میں نے ذاتی مفاد کی خاطر اور دس دس روپے کی خاطر ایک دوسرے کی جان لیتے ہوئے سڑک پر نشے غفلت اور لا پرواہی کی نتیجے میں گاڑیاں چلانے والوں کو بھی مارتے اور مرتے دیکھا ہے لیکن یکم جون کو سول لائن میں ایک گھر کی چھت پر جو معرکہ گزرا وہ آج سے چودہ سو سال پہلے اسلام کی تاریخ میں گزرا تھا اور اس عرصے میں شاید دنیا نے بھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔وہ کہتے ہیں کہ وہ