اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 334 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 334

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع " کے مستورات کے خطابات ۳۳۴ خطاب ۳۱ ؍ جولائی ۱۹۹۳ء امتہ الحفیظ صاحبہ کا بل والی جو مرز انصیر احمد صاحب صاحب چٹھی مسیح کی والدہ تھیں انہوں نے ۲۸ اور ۲۹ اپریل کی رات کو ایک خواب دیکھا یہ وہ رات تھی جس کے بعد دوسری صبح میں نے کراچی کے لئے روانہ ہونا تھا اور وہاں سے رات کو انگلستان کے لئے جہاز پکڑنا تھا۔حالات بہت سنگین تھے چاروں طرف پانچ مختلف انٹیلی جینس کے نمائندوں کے پہرے تھے اور ایک ایک حرکت اور سکون کی خبر حکومت کو دی جارہی تھی۔اس وقت بصیغہ راز ہمارا قافلہ آدھی رات کو ربوہ سے روانہ ہوا صبح ربوہ میں یہ مشہور ہوا کہ گویا میرا قافلہ اسلام آباد کے لئے روانہ ہو گیا ہے اور یہی باتیں ہو رہی تھیں چہ میگوئیاں تھیں کہ میں اسلام آباد چلا گیا ہوں۔تو انہوں نے رؤیا دیکھی اور اس رؤیا میں ان کو صاف دکھائی دیا کہ قصر خلافت کے پاس ایک کمرہ بنایا گیا ہے جس میں شیشے کی کھڑکیاں ہیں اور اس کمرے میں داخل ہو جاتا ہوں اور وہ کمرہ ہوا میں اُڑتا ہوا کسی محفوظ مقام کی طرف چلا جاتا ہے۔دوسرے دن صبح جب یہ باہر نکلیں گول بازار کا چکر لگانا شروع کیا تو ہر جگہ لوگ میرے متعلق یہی باتیں کر رہے تھے کہ وہ تو اسلام آباد چلے گئے ہیں تو ہر جگہ ان کو کہتی تھیں کہ تم کیا باتیں کر رہے ہو مجھے خدا نے بتایا ہے وہ باہر جاچکے ہیں۔ہوائی جہاز میں اڑ کر وہ کہیں چلے گئے ہیں اور یہ بات ایسی خطر ناک تھی کہ اگر یہ لوگ مان جاتے اور اس بات کو شہرت ہو جاتی تو رستے روکنے کے بہت سے سامان حکومت کے پاس تھے لیکن اللہ کی شان ہے ان کی بات کسی نے نہیں مانی۔کئی جگہ دکانداروں سے جھگڑا کرتی رہیں کہ تمہیں کس نے بتایا ہے مجھے تو خدا نے بتایا ہے اور تم کہتے ہو مجھے فلاں نے بتایا ہے خدا کی بات کچی ہے کہ فلاں کی بات سچی ہے مگر انہوں نے جس شان کے ساتھ اور صفائی کے ساتھ رویا دیکھی اسی طرح پوری ہوئی۔اس ضمن میں ایک رؤیا عزیزہ فائزہ کی بھی میں آپ کو بتا دیتا ہوں جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے جھنگ جانے کے لئے لالیاں کی طرف کی سڑک پکڑی جس کے رستے میں ایک جگہ سڑک سیلابوں کی وجہ سے ٹوٹی ہوئی تھی۔اور وہاں کچھ لمبے چوغوں والے فقیر نما لوگ موجود تھے۔ہماری کاریں جب آہستہ ہوئیں تو وہ تیزی سے کاروں کی طرف بڑھے اور ہاتھ بڑھاتے ہوئے کچھ اشارے کر رہے ہیں اور جھانک رہے ہیں ان سے ہمیں خطرہ محسوس ہوا۔یہ واقعہ پورا کرنے سے پہلے آپ کو فائزہ کی رؤیا سنا دیتا ہوں جو اس نے چند دن پہلے دیکھی تھی اس نے دیکھا کہ میں مخفی طور پر ایک قافلے کی شکل میں ربوہ سے روانہ ہوا ہوں ایک جگہ جا کر سڑک ایسی ہے کہ وہاں کاریں آہستہ ہو جاتی ہیں اور آہستہ ہوتی ہیں تو