اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 333

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات کے خطابات ۳۳۳ خطاب ۳۱ ؍ جولائی ۱۹۹۳ء بھاگتا ہے ) پھر اس کا رنگ فق ہو گیا اور اس نے اپنا سامان سمیٹنا شروع کر دیا۔وہ جلدی سے بھاگ جانا چاہتا ہے لیکن لوگوں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ پکڑو پکڑو یہ واقعہ تو رویا میں ہوا لیکن کہتی ہیں صبح تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں رو بصحت ہونا شروع ہو چکی تھی اور سارے گھر والوں نے اور گاؤں والوں نے یہ معجزہ دیکھا کہ اس لاعلاج بیماری سے جسے ڈاکٹروں نے مرض الموت قرار دیا تھا میں کلیۂ شفا پا گئی۔یہ توحید کی برکت بھی ہے جو اس رویا میں بیان ہوئی ہے بعض دفعہ خواتین اس قسم کی رؤیا سے ڈر جاتی ہیں اور ان کی آزمائش بھی کی جاتی ہے۔والدہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے ساتھ یہ سلسلہ لمبے عرصے تک چلتا رہا۔خواب میں ایک ڈائن نما عورت آیا کرتی تھی اور شرک کی تعلیم دیتی تھی کہتی تھی ورنہ یہ بچہ مار جاؤں گی لیکن وہ ہر دفعہ اس کو دھتکار دیتی تھیں۔” مجھے کوئی پرواہ نہیں جتنے بچے مرتے ہیں مر جائیں مگر میں شرک نہیں کروں گی۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے کچھ عرصہ اس ابتلاء میں رکھا۔پھر ان کی شنوائی ہوئی تو حید نے اپنی چمکار دکھائی اور رویائے صالحہ کے ذریعہ ان کو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا بلند مرتبہ اور مقام دکھایا گیا اور باقی بچوں کی خوشخبریاں دی گئیں۔چنانچہ وہ سارے بچے خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے پھولنے پھلنے والے بہت ہی مخلص خاندانوں کے سر براہ بنے ہوئے ہیں۔نفیسه طلعت صاحبہ اہلیہ وارنٹ آفیسر مرزا سعید صاحب لکھتی ہیں۔یہ رویا ۲ راگست ۱۹۸۲ء کے الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔یہ میں کل بیان کر چکا تھا۔اس کو دوہرانے کی ضرورت نہیں یہ وہی رؤیا ہے جس میں نام ابھرنے کا ذکر ہے لیکن حوالہ نہیں دیا گیا۔( یہ روز نامہ الفضل ۲ راگست ۱۹۸۲ء میں شائع ہوئی ہے) ہمارے گھر کی بچیوں میں سے لبنی عزیزم قمر سلیمان احمد کی بیگم آرڈینینس سے کچھ دیر پہلے رؤیا میں دیکھتی ہیں کہ تمام احمدی ابا جان کی کوٹھی میں جمع ہیں ( ابا جان سے مراد حضرت میرزا بشیر احمد صاحب) اور کوٹھی کے چاروں طرف خندق کھودی ہوئی ہے اور ایسا ہے کہ جیسے جنگ خندق ہو رہی ہے چھوٹی آپا میرے بھائی ماجد کو کہہ رہی ہیں کہ یوں تو ہمیں یہی حکم ہے کہ سب کچھ برداشت کرو اور کچھ نہ کہو مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تم ہاتھوں میں چوڑیاں پہن لو۔یہ جور دیا ہے یہ اس طرح پوری ہوئی کہ اس رؤیا کے چند دن بعد ہی وہ آرڈینینس ظاہر ہوا اور ربوہ سے انگلستان کے سفر سے پہلی رات میں نے اسی کوٹھی میں گزاری ہے۔جس کے گرد یہ خوشخبری تھی کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کا پہرہ ہوگا اور روحانی معنوں میں ایک خندق کھودی جائے گی جس سے کوئی حملہ آور وہاں نہیں پہنچ سکے گا۔