اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 303

حضرت خلیفہ اسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ٣٠٣ خطاب ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ء برکتیں بخشتا ہے۔محبت اور پیار کے ماحول عطا کرتا ہے۔اولا دیں ماں باپ کی رہتی ہیں ماں باپ اولاد کے رہتے ہیں اور ایسے محبت کے باہمی رشتے گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں جو اس دنیا میں ہی ہر گھر کو ایک جنت کا نشان گھر بنادیا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری ان قربانیوں کو نہ صرف مقبول فرمائے بلکہ ان کو دوام بخشے اور جتنا اجر وہ ہمیں عطا کرے وہ سب کچھ پھر ہم خدا کے حضور پیش کرتے چلے جائیں کیونکہ یہ سلسلہ ایک لا متناہی سلسلہ ہونا چاہئے۔جو خدا دے ہم پھر اس کے حضور پیش کرتے رہیں۔پھر وہ اور دے پھر اس کے حضور پیش کرتے رہیں۔آخر پر قربانی کے اس جذبے اور اس کی لذت سے متعلق ایک صحابی کا ایک واقعہ آپ کے سامنے رکھ کر میں اس خطاب کو ختم کرتا ہوں۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس حال میں جنگ احد میں شرکت فرمائی۔بہت ہی دردناک حالات پیدا ہوئے۔اس وقت ایک صحابی اس جنگ کے دوران شہید ہوئے ان کا بیٹا بہت غمگین تھا اپنے باپ کی شہادت پر۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر اس پر پڑی تو آپ نے فرمایا۔ادھر آؤ میں تمہیں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو تمہارے غم کو خوشی میں بدل دے گی۔خدا نے مجھے بتایا ہے کہ جب تمہارا باپ شہید ہو کر اس کے حضور پیش ہوا تو اس شان کی قربانی تھی اس جذبے کے ساتھ اس نے شہادت پیش کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا بتا تیری کیا جزاء ہے میں چاہتا ہوں کہ جو تو چاہتا ہے وہ تجھے پیش کر دوں۔تو پتہ ہے تیرے باپ نے کیا کہا۔تیرے باپ نے یہ جواب دیا کہ اے خدا ! میری خواہش تو یہی ہے کہ مجھے پھر زندہ کر۔میں پھر تیری راہ میں مارا جاؤں۔مجھے پھر زندہ کر میں پھر تیری راہ میں مارا جاؤں۔تیری ہی قسم ہے کہ جو مزہ مجھے شہادت کا آیا ہے ویسا کوئی اور مزہ نہیں۔پس میرے اس مزے کو دائم کر دے۔سو جانیں مجھے دے اور سو مرتبہ میں تجھ پر قربان کر دو۔اللہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنے اوپر یہ حرام نہ کر چکا ہوتا کہ جس کو میں ایک دفعہ اپنے پاس بلالوں اس کو دوبارہ دنیا نہیں بھیجوں گا۔میں تیری یہ تمنا ضرور مان لیتا مگر میرے قانون کے خلاف ہے۔یہ مثال آپ کو یہ بتانے کے لئے اور دوسروں کو بتانے کے لئے پیش کر رہا ہوں کہ قربانی دینے والا جانتا ہے کہ اس میں کتنی لذت ہے۔لا متناہی لذت ہے اس کا تصور بھی دوسرے نہیں کر سکتے اور یہ لذت اپنی ذات میں اتنی جزاء بن جاتی ہے کہ شہید ہونے والا خدا سے اور جانیں مانگتا ہے کہ میں پھر تیری راہ میں ان جانوں کو نچھاور کروں۔خدا کرے کہ ہماری قربانیوں کے ساتھ یہ جذ بہ محبت ہمیشہ