اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 302

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ٣٠٢ خطاب ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ء ذکر کیا ہے۔کیا آپ کے خیال میں وہ محروم رہی ہیں؟ وہ اس دنیا میں ہی جنت کے مزے پا جاتی ہیں ان کو پتہ ہے کہ یہ ایک ایسی لذت ہے جو ہمیشہ ساتھ دیتی ہے اور پھر آگے اولاد میں بھی برکتیں بن کر ظاہر ہوتی چلی جاتی ہے۔وہ قربانی کرنے والے جنہوں نے ابتداء میں دو دو آنے چار چار آنے کی قربانی کی جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑے پیار سے اپنی کتابوں میں محفوظ فرمایا۔میں جانتا ہوں آج ان کی اولادیں تمام دنیا میں پھیلی پڑی ہیں اور لکھ پتی اور کروڑ پتی تک ہو چکی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ قربانیوں کو ضائع نہیں کیا کرتا۔قربانی کرنے والا دنیا کی لالچ میں نہیں پڑتا لیکن میں غیروں کو بتا رہا ہوں کہ وہ ان سودوں سے واقف ہی نہیں ہیں۔اول تو قربانی کرنا خود ہی اپنی جزاء آپ بن جایا کرتا ہے۔آپ میں سے ہر وہ شخص گواہ ہے اس بات کا کہ جس کو خدا نے قربانی کی توفیق دی ہے وہ قربانی کرنے کا وقت اپنی ذات میں ایک ایسی لذت رکھتا ہے کہ اس کا دنیا کی فانی لذتوں کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں ہو سکتا۔یہ احساس کہ میں نے ایک نیک قدم اٹھایا ہے اپنی جزاء خود بن جایا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ مزہ ایسا ہے جو ہمیشہ باقی رہ جاتا ہے۔جس کے پیچھے کوئی سردر دی نہیں آتی۔کوئی بے چینی نہیں پیدا ہوتی لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہو جاتی تو پھر آپ کی طرف سے انعامات کا سلسلہ جاری ہوتا ہے جو ہمیشہ کے لئے آگے نسلوں تک جاری ہوتا چلا جا تا ہے اور چلتا چلا جاتا ہے۔وہ بزرگ خواتین جن میں سے بعض کے نام میں نے آپ کے سامنے پڑھے بے شمار ایسی ہیں جن کے نام کہیں لکھے ہوئے بھی نظر نہیں آئیں گے۔ان کو کیا پتہ کہ آج کی اولادوں سے اللہ تعالیٰ کیا سلوک فرمارہا ہے۔آپ میں سے ہر وہ خاتون جو کسی ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جن کے آباء واجداد نے ابتداء میں احمدیت قبول کی تھی وہ مڑ کر دیکھیں تو سہی کہ اس زمانہ میں کیا حالات تھے اور اب کیا بن چکی ہیں۔یہ سارے ان قربانیوں کے پھل ہی ہیں جو آپ کھا رہی ہیں اور آئندہ آپ کی نسلیں کھاتی چلی جائیں گی۔جو قربانیاں آج آپ پیش کر رہی ہیں ان کی ایک جزاء تو خدا نے وہیں نقد نقد دی۔آپ کے دل کو سکینت سے بھر دیا۔آپ کے گھروں کو برکتوں سے بھر دیا لیکن آئندہ نسلیں بھی اس کی خیرات پائیں گی اور یہ سلسلہ ایسا ہے جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔کاش! دوسرے بھی دیکھیں اور سمجھیں کہ باقی رہنے والی لذتیں کیا ہوا کرتی ہیں ان کا دنیا کی عارضی لذتوں کے ساتھ مقابلہ کرنا محض نادانی اور جہالت ہے۔دنیا کی عارضی لذتیں تکلیفیں پیچھے چھوڑ جاتی ہیں دکھ چھوڑ جاتی ہیں بنے بنائے گھروں کو اجاڑ دیتی ہیں مگر نیکی کرنے والے گھروں کو اللہ تعالیٰ