اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 257

حضرت خلیفہ اس الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۵۷ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء ایسا ہے تو اچھا ہے۔اگر پہلی باتیں ہیں تو پھر وہ عورت اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کی اہل نہیں ہے یہی حال مردوں کا ہے۔پس اگر چہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کا نام نہیں لیا اور عورتوں کا لیا ہے اور اس میں بڑی گہری حکمت ہے مگر گھر کی جنت بگاڑنے میں یقیناً مرد بھی ایک بڑا بھاری کردار ادا کرتے ہیں اور عورت کا کام ہے کہ اپنی اولاد کی ان سے حفاظت کرے۔حفاظت کیسے کی جائے ؟ یہ میں آپ کو ایک بار یک نکتہ سمجھانا چاہتا ہوں۔جب مرد کے مظالم یا مرد کی زیادتیاں کسی عورت کا دل ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہوں تو مرد کے جانے کے بعد اس کا رد عمل یہ فیصلہ کرے گا کہ وہ اپنی اولاد کی اس ظالم مرد کی عادتوں سے حفاظت کر رہی ہے یا نہیں۔اگر وہ اس اولا د کو اپنا ہمدرد بنانے کی خاطر بڑھا چڑھا کر ان باتوں کو بیان کرے اور اپنے ظلموں کے قصے بتا کر ٹسوے بہائے اور انہیں اپنائے اور انہیں کہے کہ یہ ظالم باپ ہے تمہارا تو اپنے ہاتھوں سے اس نے ان کو برباد کر دیا۔انکی حفاظت کرنے کی بجائے مرد کے ظلم کو ان تک پہنچنے کی اجازت دی۔اگر وہ قربانی کرے اور مرد کے ظلم اور اولاد کے درمیان حائل ہو جائے ، اپنے پروں پر اپنے سینے پر مرد کے ظلم لے لیکن اولاد تک ان کا نقص نہ پہنچنے دے تو اسکی مثال ایک ایسی مرغی کی طرح ہوگی جو کمزور جانور ہے لیکن جب چیل اس کے بچوں پر جھپٹتی ہے تو اپنے پروں تلے انکو لے لیتی ہے۔آپ کتنا ہی دکھ اٹھائے ، آپ چاہے اس راہ میں ماری جائے ، اپنے بچوں تک اس ظالم چیل کا نقصان نہیں پہنچنے دیتی سوائے اس کے کہ مرنے کے بعد وہ اس سے جو چاہے کرے۔یہ وہ بچی ماں ہے جو ایک جانور کے اندر ہمیں دکھائی دیتی ہے۔اے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے دم بھرنے والی خواتین ! کیا تم ایک جانور میں سے ایک بچی ماں کے برابر بھی نہیں ہوسکتی۔کیا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی غلامی کے یہی تقاضے ہیں کہ ماں کی حیثیت سے حیوانی دنیا میں جو ہمیں عظیم نمونے ملتے ہیں محمد رسول اللہ ﷺ کی لونڈیاں، آپ کی غلام عورتیں ان نمونوں کو بھی اپنا نہ سکیں۔آخری فیصلہ اس بات سے ہو گا کہ آپ اپنی اولا د اور بد اثرات کے درمیان حائل ہوکر ہر قیمت پر اپنی اولا دکوان بداثرات سے روک سکتی ہیں کہ نہیں روک سکتیں۔پس بہت سی ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو گھروں کو بناتی ہیں یا بگاڑتی ہیں۔مجھے پتہ ہے کہ وقت زیادہ ہے لیکن پھر بھی میں مختصر نصیحت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ مضمون بہت ہی لمبا ہے اور تھوڑے وقت میں تفصیل سے بیان نہیں ہوسکتا۔یہ نمونے میں نے آپ کے سامنے رکھے