اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 256
حضرت خلیفہ مسح الرائع کے مستورات سے خطابات ۲۵۶ خطاب ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء والی معصوم عورتوں سے اتارا ہے۔اس نے ایسے بدتمیز بچے پیدا کر دیئے جنھوں نے اس ظلم کو جاری رکھا جوان کے باپ نے ماں سے روا رکھا تھا۔اسی طرح اس کے برعکس بھی صورت حال ہوتی ہے۔مائیں بے راہ رو ہو جاتی ہیں اور خاوندان کو روکنے سے عاجز ہو جاتے ہیں کیونکہ شروع ہی سے بعض عورتیں اس رنگ میں اپنے مردوں سے تعلقات قائم کرتی ہیں کہ گویا وہ بہتر معاشرے سے آئی ہیں وہ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں وہ زیادہ باتوں کو بجھتی ہیں، مرد میں نقائص ہیں اس کے باوجو دانہوں نے قبول کر لیا۔مرد کا خاندان نسبتا ہلکا ہے اسکے باوجود وہ شہزادی ان کے گھر آگئی۔یہ باتیں منہ سے کہیں نہ کہیں ان کی طرز عمل بتارہی ہوتی ہے کہ میں اونچی ہوں تم نیچے ہو اور وہ نیچے واقعہ پھر ہمیشہ کیلئے نیچے ہو جاتے ہیں۔دیکھتے ہیں بری باتوں کو گھر میں، خلاف اسلام باتوں کو رائج دیکھتے ہیں اور ان کو جرات نہیں ہوتی کہ انکو روک سکیں۔اب اندازہ کیجئے کہ ایسی اولاد جو ایسے گھر میں پل رہی ہو وہ کیا سیکھے گی اور کیا سوچ کر بڑی ہوگی۔رفتہ رفتہ اس اولاد کے دل سے اس ماں کی عزت بھی اٹھ جاتی ہے۔اگر باپ کہے یا نہ کہے وہ بڑے ہو کر اس ماں کے خلاف گواہیاں دیتے ہیں اور جانتے ہیں دل سے کہ اس ماں نے نہ باپ سے صحیح سلوک کیا نہ حقوق ادا کئے نہ ہماری صحیح تربیت کی لیکن یہ سب کچھ جاننے کے باوجود وہ بداثر کو بہتر اثر کی نسبت جلدی قبول کرتے ہیں۔وقت کی رعایت سے میں نسبتاً اس خطاب کو چھوٹا کروں گا لیکن یہ بات میں آپکو سمجھانی چاہتا ہوں کہ ایک راز کو آپ اچھی طرح ذہن نشین کر لیں بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں یہ بات خوب یاد رکھیں کہ جس طرح پانی نچلی سطح کی طرف بہتا ہے اسی طرح فطرت انسانی میں یہ بات داخل ہے کہ مشکل چیز کو قبول کرنے کی بجائے اگر آسان چیز میسر ہو تو اسے قبول کرتی ہے۔پس ماں اور باپ کے اخلاق میں سے جس کا اخلاق بدتر ہو بالعموم وہی اولاد میں رائج ہو جاتا ہے پس دونوں طرف کی کمزوریاں آگے جا کر جمع ہوتی ہیں اور بعض دفعہ ضرب کھا جاتی ہیں اسلئے گھر کے معاشرے کو جنت بنانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔بہت باریک نظر سے ان باتوں کو اور ان تعلقات کو دیکھنا چاہئے۔آخری فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ آپ کا گھر آپ کے لئے جنت بنا ہے کہ نہیں۔آپ کے خاوند کیلئے جنت بنا ہے کہ نہیں۔آپ کے بچے آپ دونوں سے برابر پیار کرتے ہیں اور احترام کرتے ہیں کہ نہیں۔اگر مرد میں کمزوریاں ہیں تو عورت حتی المقدور ان سے صرف نظر کرتی ہے کہ نہیں لیکن کوشش ضرور کرتی ہے کہ وہ ان کمزوریوں کو دور کرے۔نیک اور پاک مخلصانہ نصیحت کے ذریعہ وہ اپنے خاوند کو سمجھاتی رہتی ہے اگر