اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 176 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 176

خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات دنیا میں ایک لمبے عرصے تک علمی جد و جہد کرنی پڑی۔آج آپ کو امریکہ میں لاکھوں مسلمان بتائے جاتے ہیں اور اکثر ان کا تعلق الیفر وامریکن سے ہے یعنی افریقہ کے پرانے باشندے جو کبھی غلام بنا کر امریکہ لے جائے گئے تھے اور ان میں احمدیوں کی تعداد تھوڑی ہے لیکن امر واقع یہ ہے کہ سب سے پہلا پیغام جو اسلام کا امریکہ کی سرزمین کو دیا گیا وہ ایک احمدی مبلغ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے ذریعے دیا گیا اور ایک وقت ایسا تھا جب کہ امریکہ میں احمدیت اور اسلام ایک ہی چیز کے دو نام سمجھے جاتے تھے۔جیسا کہ سمجھا جانا چاہئے کوئی اور تفریق نہیں کی جاتی تھی ہر امریکن جانتا تھا کہ احمدیت ہی اسلام ہے اور اسلام ہی احمدیت ہے۔لیکن افسوس ہے کہ وہ کیفیت بہت سے ایسے محرکات کے نتیجے میں قائم نہ رہی۔جن محرکات میں سے بعض پر ہمیں اختیار تھا اور ان پر عمل نہ کرنے کے ہم کسی حد تک ذمہ دار ہیں اور بعض ایسے تھے جن پر ہمارا اختیار نہیں تھا جن محرکات پر ہمارا اختیار نہ تھا نہ ہے وہ بعد کے زمانے میں مسلمان ممالک میں تیل کی دریافت ہے۔جب تک مسلمان ممالک میں تیل دریافت نہیں ہوا تھا حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف مغربی دنیا میں بلکہ افریقہ میں بھی اور دوسری دنیا میں بھی اسلام کی نمائندہ صرف احمد یہ جماعت ہی تھی کیونکہ جماعت احمدیہ مالی قربانی کے ذریعہ اور وقف کے ذریعہ اس زمانے میں بھی خدمت پر کمر بستہ ہوگئی جبکہ ایک بہت ہی چھوٹی اور غریب جماعت تھی اور دنیا میں اس وقت کوئی بھی اسلام کی نمائندگی کے لئے تیار نہیں تھا۔عرب ممالک مسلمان ہونے کے باوجود اپنی سیاستوں میں تو الجھے ہوئے تھے، اپنی روزی کمانے کے مسئلے سے تو ان کو دلچسپی تھی لیکن اسلام پر کیا بنتی ہے اور اسلام کا دنیا میں کیا حال ہے اس سے وہ کلیتہ غافل تھے اور آج بھی اگر آپ اسلامی دنیا پر نظر ڈالیں تو اسلام کی خدمت کرنے والے جماعت احمدیہ کی طرح طوعی طور پر مالی قربانی کے ذریعے خدمت نہیں کر رہے بلکہ کچھ امیرحکومتیں ہیں جو مختلف تنظیموں کو روپیہ فراہم کرتی ہیں اور وہی رو پیدا اسلام کی خدمت کے نام پر مختلف دلچسپیوں میں خرچ ہوتا ہے۔کچھ اس کا ضائع چلا جاتا ہے، کچھ اپنا لیا جاتا ہے مگر بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا ایک حصہ ضرور اسلام کی خدمت کے نام پر کئے جانے والے کاموں پر خرچ ہوتا ہے۔یہ جو دوسرا دور ہے اس میں جماعت احمد یہ پس منظر میں جانی شروع ہوئی کیونکہ دولت کے نتیجے میں ان کو ایک بہت غلبہ عطا ہو گیا عظیم دولت ہے ان مسلمان ممالک کو جو بطور تیل کے خدا کی طرف سے ان کو تحفہ ملی۔اس کا ایک حصہ اور بہت چھوٹا حصہ انہوں نے دنیا کے دوسرے ممالک میں اسلام کی خدمت پر خرچ کرنا شروع کیا اور باوجود اس کے کہ ان کے نقطہ نگاہ سے وہ