اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 177 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 177

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات 122 خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء اس سمندر کے چند قطرے ہیں جو ان کو نصیب ہوا ہے لیکن جماعت احمد یہ جیسی غریب جماعت کے مقابلہ پر وہ دولت ایک پہاڑ دکھائی دیتی ہے اور ساری دنیا میں انہوں نے ایسی تنظیمیں قائم کیں اور ایسی تنظیموں کو روپیہ دینا شروع کیا جو اسلام سے کسی نہ کسی رنگ میں تعلق رکھتی تھی۔مساجد کی تعمیر کے نام پر ، مدارس کی تعمیر کے نام پر تنظیموں کو چلانے کے نام پر لاکھوں، کروڑوں ڈالر مختلف ممالک میں خرچ کئے گئے اور کئے جارہے ہیں۔امریکہ اس سے مستی نہیں۔اس پس منظر کو زیادہ وضاحت سے سمجھنے کے لئے جب ہم مسلمان ممالک کی آپس کی مخاصمانہ کارروائیوں پر نظر ڈالتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ جو وہ حسد رکھتے ہیں اس کو دیکھتے ہیں تو یہ منظر اور زیادہ نظر کر سامنے آتا ہے۔اگر چہ سب ممالک جہاں تک مغربی دنیا کا تعلق ہے مسلمان ہیں، ان کو اس تفصیل کا علم نہیں کہ کس قسم کے مسلمان ہیں، شیعہ مسلمان ہیں ،سنی مسلمان ہیں ، وہابی مسلمان ہیں، حنفی مسلمان ہیں، حنبلی ہیں، یا شافعی ہیں یہ ساری باتیں باہر سے دور سے دیکھنے والوں کو دکھائی نہیں دیتیں اور وہ تفریق نہیں کر سکتے کہ اسلام کو کن ملکوں میں کس طرح سمجھا جا رہا ہے لیکن یہ لوگ خوب جانتے ہیں اور اپنی تنظیموں کو یا ان تنظیموں کو جو اپنے سیاسی اثرات کو تقویت دینے والی ہوں ان کو زیادہ امداد دیتے ہیں بلکہ کلیتہ انہی کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تمام مغربی دنیا میں اب اسلام کی خدمت کرنے والی تنظیمیں ملکوں کے اثرات کے تابع بٹ گئی ہیں۔اب امریکہ میں آپ جا کر دیکھیں تو بعض مسلمان تنظیمیں ہیں ان کو وہابی عقائد کا تو علم نہیں مگر چونکہ وہ سعودی عرب سے روپیہ لے رہی ہیں اس لئے وہ ہر بات سعودی عرب کی کریں گی اور چونکہ روپیہ بڑی کثرت سے تقسیم ہوتا ہے اور مساجد کے لئے اور دوسرے مدارس وغیرہ کے لئے لکھوکھا ڈالر عطا کئے جاتے ہیں، ملیز کہنا چاہئے ، اس لئے جو ایفر وامریکن تھا اس کا تیزی کے ساتھ ان لوگوں کی طرف رجحان شروع ہو گیا۔جب امریکہ نے پیش قدمی کی تو لیبیا کو خیال آیا کہ ہم کیوں پیچھے رہیں۔چنانچہ لیبیا نے بھی اپنا تیل ، وہابی یا یوں کہنا چاہئے کہ سعودی نفوذ کے مقابل پر امریکہ میں خرچ کرنا شروع کیا اور بہت تیزی کے ساتھ ان کا مقابلہ ہونا شروع ہو گیا لیبین مسلمان یا سعودی مسلمان اور امر واقع یہ ہے کہ تفصیل سے نہ لیبیا نے تربیت دی نہ سعودی عرب نے تربیت دی ، عقائد کے فرق کے متعلق کچھ بتایا نہیں گیا، ایک سیاسی تصویر ہے جو مقامی مسلمانوں پر نقش ہونی شروع ہوگئی۔ان کو صرف اتنا علم ہے بعض