اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 170

حضرت خلیفتہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء ہے۔اس کثرت سے عورتوں میں لیڈرشپ ظاہر ہوئی ہے ، جو عورتوں کے حقوق کے لئے لڑ رہی ہیں مجھے ایک مرد کا نام بتاؤ جس نے عورت کے حقوق کے لئے جھنڈا ہاتھ میں اُٹھایا ہو۔آج کی دنیا میں جہاں کہتے ہو کہ معاشرہ اتنا ترقی کر چکا ہے اتنا انسان کو تہذیب و تمدن کے ماحول میں انسان کی اتنی تربیت ہو چکی ہے کہ وہ ان باریک باتوں کو سوچنے اور ان پر عمل کرنے کا اہل ہو چکا ہے اس کے باوجود آج بھی دنیا میں ایک مرد کا نام نہیں لیا جا سکتا جو عورت کے حقوق کے لے کھڑا ہو۔اور آج سے چودہ سو سال پہلے حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ اس وقت عورت کے حقوق کی حفاظت کے لئے کھڑے ہوئے جب کہ ساری دنیا میں ایک بھی عورت اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے نہیں لڑ رہی تھی بلکہ کلیہ صلى الله مایوس ہو چکی تھی ، کلیہ جواب دے چکی تھی۔آنحضرت علی نے اس پر اتنا زور دیا کہ آپ کے صحابہ شکایتاً آپ کے پاس پہنچنے لگے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے ہماری عورتوں کو بگاڑ دیا ہے، یہ تو مقابل پر کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگی ہیں۔۔۔۔۔حقوق کی باتیں کرتی ہیں۔یہ جو رجحان پیدا ہوا ہے یہ عورتوں کے کسی ظاہر ہونے والے رجحان کے نتیجہ میں نہیں تھا بلکہ خالصہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم کے نتیجہ میں تھا اور آپ کے اُسوہ حسنہ کے نتیجہ میں تھا۔اس کے علاوہ ایک آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے جو اس مضمون میں ایک معراج ہے، جو سب سے آخری بات ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم میں سے سب سے اچھا مرد وہ ہے جو اپنے اہل وعیال کیلئے ، اپنی بیوی کے لئے ، اپنے بچوں کے لئے بہترین ہے اور میں تم میں سے بہترین ہوں کیونکہ میں اپنی بیوی اور بچوں کے لئے سب سے بہترین خاوند اور سب سے بہترین باپ ہوں۔بیوی کے حقوق کے قیام کے لئے اس سے بہتر تعلیم نہیں دی جاسکتی تھی۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اسوہ کو قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے انسان کے لئے نجات کی راہ قرار دیا ہے اور اُس اُسوہ کا معراج یہ بیان فرمایا گیا ہے۔فرمایا ہے اگر تم بہترین بننا چاہتے ہو تو مجھ سے بہتر تو تم ہو نہیں سکتے میرے جیسا بننے کی کوشش کرو اور میرا بہترین خلق یہ ہے کہ میں عورتوں پر مہربان ہوں، اپنی بیوی پر مہربان ہوں ، اُس کے حقوق کا خیال رکھتا ہوں۔پس آنحضرت ﷺ کی ساری زندگی میں ایک بھی واقعہ آپ کو ایسا دکھائی نہیں دے گا جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی وجہ سے آپ کی ازواج مطہرات کو کبھی کوئی تکلیف پہنچی ہو۔ایک بھی واقعہ نہیں۔اس کے برعکس ایسے واقعات ملتے ہیں کہ آپ کو تکلیفیں پہنچیں، اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ، بعض دفعہ اتنی تکلیفیں پہنچی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو حکماً یہ اجازت دی کہ ان کو طلاق