اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 169

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۶۹ خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء ہاتھ لگانا وغیرہ کا یہ توڑ لیں ، ایک خصوصی تعلق تو منع ہے لیکن عام تعلقات ملنا جلنا، معاشرے کی دوسری ضروریات جن میں انسان عورت کا محتاج ہوتا ہے، عورت مرد کی محتاج ہوتی ہے ان میں تعلق توڑنے کی بجائے آپ کا سلوک یہ ہوتا تھا کہ میں حضور کے ساتھ کھاتی پیتی تھی ، اور آپ کے ساتھ پانی پیا کرتی تھی اور آنحضور عل ہے جب اُس گلاس میں پانی پیتے تھے جس سے میں نے پیا ہوتا تھا تو اُس جگہ لب لگاتے تھے جہاں میرے لب لگتے تھے۔کیسا پاکیزہ اُسوہ ہے۔اس کی کوئی نظیر آپ کو دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دے گی کسی معاشرے میں کبھی کوئی مرد آپ کو ایسا دکھائی نہیں دے گا جو خصوصیت سے ان ایام میں عورت کی عزت اور تکریم کی خاطر ایسا بار یک حسنِ سلوک کر رہا ہو اور اس کے باوجود ظلم کی حد ہے کہ اسلام پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے عورت کو عزت کے مقامات سے گرا دیا ہے اور عورت سے ظلم کا سلوک کر رہا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ بعض دفعہ ایسی حالت میں جب میں ہڈی سے گوشت کھا چکتی تھی تو آنحضرت ﷺ اپنے پیار کے اظہار کے لئے انہی جگہوں پہ منہ مارتے تھے جہاں سے ہڈی کا گوشت کھایا ہوتا تھا اور اُس ہڈی کو وہاں سے چوستے تھے جہاں سے میں نے چھوڑا ہوا ہوتا تھا۔اب اگر دنیا کے مرد اس اسوہ حسنہ پر چلیں تو عورت کی تو تقدیر بدل سکتی ہے لیکن بدقسمتی سے غیر معاشرے میں تو کیا خود احمدی معاشرے میں بھی عورت کے ساتھ وہ حسنِ سلوک نہیں ہورہا اور بار بار میں نے خطبات میں اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔بعض مرد مجھ سے شکوہ کرتے ہیں، مجھے خط لکھتے ہیں کہ تم کیوں عورتوں کے حقوق پر اتنا زور دے رہے ہو مردوں کے بھی تو حقوق ہیں۔میں ان کو سمجھاتا ہوں کہ تم تو اپنے حقوق زبردستی لے رہے ہو اور اُس سے بھی زیادہ لے رہے ہو لیکن عورتیں اپنی نزاکت کی وجہ سے اپنی طبعی کمزوریوں کی وجہ سے، اپنی نسوانیت کی اُن خصوصیات کی وجہ سے، جو مردوں کے مقابل پر عورتوں کو آبگینے کے طور پر پیش کرتی ہیں اُن سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہو اور اُن پر ظلم کرتے ہو جو حقوق ہیں اُن کے ، وہ اُن کو نہیں ادا کرتے۔اسلئے جب تک تم عورت کے حقوق ادا کرنے نہیں سیکھو گے اُس وقت تک دنیا میں نہ تم ترقی کر سکتے ہو نہ اسلام کا وہ مقام دوبارہ دنیا میں قائم ہوسکتا ہے ،اُس شان کا مقام جو آنحضرت ﷺ کے دور میں دنیا پر ظاہر ہوا تھا۔آنحضور ﷺ نے عورت پر اتنے احسانات کئے ہیں کہ میں ہمیشہ اپنی مغربی دنیا کی پریس کا نفر نسیز میں اس بات کی طرف ان کو متوجہ کیا کرتا ہوں۔میں اُن سے کہتا ہوں کہ عورت کے حقوق کی خاطر لڑنے والی عورتوں کا تو ایک انبار لگا پڑا