اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 162

حضرت خلیفہ انسخ الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۶۲ خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء آکر تم جوابدہ ہو گے۔پھر فرمایا کہ اگر وہ دونوں تم سے بحث کریں کہ تم کسی کو میرا شریک مقرر کر و جس کا تمہیں علم نہیں تو ان دونوں کی بات مت مانیو۔ہاں دنیوی معاملات میں ان کے ساتھ نیک تعلقات کو قائم رکھو اور اُس شخص کے پیچھے چلو جو میری طرف جھکتا ہے اور تم سب کا لوٹنا میری طرف ہی ہوگا ،اُس وقت میں تم کو تمہارے عمل سے خبر دار کروں گا۔اس آیت میں جہاں ماں باپ کے حقوق کا ذکر فرمایا ہے وہاں اپنے حقوق کا ذکر بھی ساتھ فرما دیا اور آیت کا مضمون بتاتا ہے کہ تقدم اور تاخر کو کھول دیا گیا ہے۔فرمایا کہ ماں کا احسان تم پر ہے اُس نے کمزوری کے بعد کمزوری کی حالت میں تمہیں اُٹھائے رکھا اس لئے اُس کے شکر گزار ر ہولیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خالق کو بھول جاؤ جس نے تمہیں ازل سے لے کر آج تک ہزار ہا بلکہ لکھوکھا بلکہ کروڑ ہا ، ارب ہا مراحل سے گزارا ہے اور تمہاری پرورش کے انتظامات کئے ہیں۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ماں کے احسان کے تابع اس کو بھول جاؤ اس لئے ماں یا باپ یا دونوں اگر تمہیں شرک پر آمادہ کریں تو تمہارا فرض ہے کہ اُن کی بات نہ مانو اور خدا کی طرف جھکو اور اُن کے تابع رہو جو خدا کی طرف جھکنے والے ہیں۔اس کے علاوہ شرک کی تعلیم کے باوجود تم نے ان سے تعلق نہیں تو ڑنا اور جہاں تک دنیاوی احسانات کا معاملہ ہے وہ سلوک جاری رکھنا ہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرت سے ایسی روایات مروی ہیں جن میں آپ نے ماں کے حقوق کی طرف مختلف رنگ میں توجہ دلائی۔اُن میں سے چند حدیثیں میں نے پھنی ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔الادب المفرد حضرت امام بخاری کی کتاب ہے جو بخاری کا حصہ تو نہیں لیکن بہت ہی عمدہ اور مستند روایات پر مشتمل اخلاق کی کتاب ہے۔آپ نے حضرت ابو ہریرہ سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ آنحضرت سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! کس کے ساتھ نیک سلوک کروں؟ فرمایا اپنی ماں کے ساتھ۔عرض کیا پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا اپنی ماں کے ساتھ۔پھر عرض کیا گیا پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا اپنے باپ کے ساتھ۔( صحیح بخاری۔کتاب الادب باب من احق الناس بحسن الصحبة ) اب وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان تفریق کی ہے۔اس موقع پہ جو تفریق ہے وہ ماں کے حق میں ہے عورت کے حق میں ہے باپ کے حق میں نہیں کیونکہ دو دفعہ سوال جب دھرایا گیا تو یہ فرمایا کہ ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کرو اور ایک دفعہ آخر پر فرمایا کہ باپ کے ساتھ بھی حسن سلوک کرو۔پھر باقیوں کو بھی اس نصیحت میں شامل فرمالیا گیا الادب المفرد ہی کی ایک اور روایت ہے، جو حضرت کلیب