اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 161
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۶۱ خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان برائیوں کو دور کریں اور اسلامی تعلیم کی طرف واپس لوٹیں اسی طرح میرا فرض ہے کہ مغربی دنیا کی برائیاں بھی ان کو کھول کھول کر بتاؤں اور ان کو متوجہ کروں کہ ان کی نجات اسلامی اخلاق کی طرف لوٹ آنے میں ہے۔اس معاملہ میں ہرگز میرے تصورات کے پس منظر میں کوئی تفریق نہیں ہے۔مجھے مغرب کی دنیا کے انسان اُسی طرح پیارے ہیں جس طرح مشرق کی دنیا کے جس طرح اُن کی خوبیوں کو سراہتا ہوں اس طرح ان کی خوبیوں کو سراہتا ہوں۔اُن کی برائیوں پر بھی دکھ سے نظر ڈالتا ہوں اور دوسروں کی برائیوں پر بھی دکھ سے نظر ڈالتا ہوں اس لئے ہر گز اس معاملہ میں کوئی کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔اسلامی تعلیم ماں باپ کے متعلق اگر دنیا میں رائج ہو تو انسانی معاشرہ بہت ہی حسین ہو کر اُبھر سکتا ہے۔اس سلسلہ میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے بہت سی نصائح فرمائی ہیں جو قرآنی تعلیم پر مبنی ہیں۔قرآنی آیات بھی کثرت سے ہیں اور کئی طریق پر انسانوں کو اپنے ماں باپ کے حقوق کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور خصوصاً والدہ کے حقوق کو بڑی وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔چنانچہ ایک موقع پر قرآن کریم فرماتا ہے: وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهَنَّا عَلَى وَهْنٍ وَ فِصلُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَى الْمَصِيرُ وَإِنْ جَاهَدُكَ عَلَى اَنْ تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبُهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ آنَابَ إِلَى ثُمَّ إِلَى مَرْجِعُكُمْ فَأُنَتِتُكُمْ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) (تضمن: ۱۵-۱۶) اور ہم نے یہ کہتے ہوئے کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر یہ ادا کر۔انسان کو اپنے والدین کے متعلق احسان کرنے کا تاکیدی حکم دیا اور اُس کی ماں نے اُسے کمزوری کے ایک دور کے بعد کمزوری کے دوسرے دور میں اُٹھائے رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دوسال کے عرصہ میں تھا۔یعنی انسان بچے کی کمزوری کے دور میں جب وہ ماں کے اوپر کلی منحصر تھا اس نے ایک کمزوری کے دور کے بعد دوسری کمزوری کے دور میں اُسے مسلسل اُٹھائے رکھا، اپنے خون اپنی تمام طاقتوں سے اُس کو حصہ دیا اور جب وہ پیدا ہوا تب بھی وہ اپنی ماں پر منحصر رہا اور دو سال تک اُس نے دودھ بھی پلایا اور ویسے بھی اُس کی پرورش کی ، یاد رکھو کہ میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہو گا۔یعنی ان احسانات کو اگر بھلا دو گے تو میرے سامنے