اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 127

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۲۷ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء گزریں کوئی قانون اس میں دخل نہیں دے سکتا اسی لئے یہ تعلیم محض پرانے زمانہ کی بات نہیں رہی۔آج بھی اس کا اطلاق ہو رہا ہے اور آج بھی اس کی ضرورت ہے۔حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا کہ جس کی تین بیٹیاں ہوں اور ان کی پرورش اچھی طرح کرے، ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو اس کے لئے جنت ہوگی۔( سنن ابو داؤد کتاب الادب) میں یہ روایت ہے۔پھر ایک اور اسی مضمون کی روایت ہے۔دوسری روایت ( سنن ترمندی) سے ہے جس میں یہ ذکر ہے ابو سعید خدری سے روایت ہے۔کہ آپ نے فرمایا کہ جس کی تین بیٹیاں ہوئیں یا تین بہنیں اور وہ ان سے حسن سلوک کرتا ہے وہ جنت میں داخل ہوتا ہے۔(سنن ترمذی ابواب البر والصلة ، باب ما جاء فی النفقات على البنات والاخوات ) ایک اور روایت میں دو بیٹیوں اور دو بہنوں کا ذکر ہے اس مضمون پر مجھے کچھ تھوڑا سا تر در اس بات میں تھا کہ تین بیٹیوں کی تربیت میں تو ثواب ہو اور چار میں نہ ہو ، پانچ میں نہ ہو۔یہ عجیب سی بات ہے اور لازماً روایت سننے والے کو کوئی غلطی لگی ہے۔بعض دفعہ روایت اس لئے تبدیل ہو جاتی ہے کہ مثلاً جس عورت کو مد نظر رکھتے ہوئے آنحضور ﷺ نے فرمایا ہو اس کی تین بیٹیاں ہوں۔جب آپ نے فرمایا تم نے تینوں بیٹیوں کی اچھی تربیت کی ہے تم جنت میں جاؤ گے تو سننے والے نے یہ سمجھا کہ تین ہی ہوں گی تو جنت میں جائے گا چوتھی پڑی تو جت گئی۔یہ درست نہیں ہے۔ایک موقع پر یہ روایت ملتی ہے کہ ایک عورت کی دو بیٹیاں تھیں اس نے ان سے انصاف اور پیار کا سلوک کیا تو اس کے متعلق بھی رسول کریم نے خوشخبری دی چنانچہ دو بیٹیوں کی روایت بھی جو پیدا ہوئی وہ اسی وجہ سے پیدا ہوئی۔لیکن حضرت عائشہ کی روایت سنیں اور وہی بات جو میں نے آپ سے بیان کی تھی۔اب دیکھیں پر کھ کر کہ کتنی نمایاں طور پر حضرت عائشہ صدیقہ کی روایات میں روشنی ملتی ہے اور کوئی ابہام دکھائی نہیں دیتا۔آپ نے یہ فرمایا کہ میں نے رسول اکرم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو لڑکیوں کے ذریعے آزمائش میں ڈالے، اور وہ اس سے بہتر سلوک کرے ، وہ اس کیلئے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ہوں گی۔( بخاری کتاب الادب ) تو یہاں وہ تعداد آپ نے ذکر نہیں فرمائی۔فرمایا رسول اکرم کا ارشاد اتنا ہی ہے دراصل، کہ کوئی شخص بھی جس کو لڑکیوں کے ذریعہ خدا تعالیٰ آزمائش میں ڈالے۔اب یہ فقرہ سننے کے لائق ہے یہ مرادنہیں ہے کہ ہر شخص جس کی بیٹیاں ہوں گی وہ جنت میں چلا جائے گا۔مراد یہ ہے کہ بیٹیوں کے ذریعہ آزمائش میں ڈالا گیا ہو۔دو طرح کی آزمائشیں