اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 115

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطاب ۱۱۵ خطاب ۳ را پریل ۱۹۸۸ء ہو رہی تھی میں مردوں سے بات کر رہا تھا وہاں مجھے بتایا گیا کہ ایک احمدی خاتون ہیں جنہوں نے گزشتہ سال میں ایک سو بیعتیں کروائی ہیں۔پہلے میں سمجھا مبالغہ ہو گا لیکن جب میں نے پوچھا جماعت سے تو پتہ لگا کہ کثرت سے اس کے بنائے ہوئے احمدی موجود تھے۔چنانچہ جب میں لجنہ میں گیا تو بی بی کو میں نے کہا کہ اُس خاتون کو بلا کر اپنے ساتھ یہاں بٹھانا ہے چنانچہ بڑی عزت اور محبت سے ہم نے ان کو بلا کر پاس بٹھایا اور ساری خواتین نے رشک کیا اس پر اور ہے بھی قابل رشک بات جو مرتبے اور مقام میں بڑھے گی وہی اونچی ہوگی ، وہی عزت کے لائق ہے اس لئے خدا کی نظر میں اگر آپ مرتبہ اور پیار اور محبت کا مقام چاہتی ہیں تو اس کی خدمت میں آگے بڑھیں اور اپنے اخلاق بہتر کریں۔اخلاق گندے ہوں گے تو آپس میں لڑیں گی ، ایک دوسرے پر گند اچھالیں گی ،فساد بڑھنے شروع ہو جائیں گے، آپ کے بچے آپ سے لڑنا سیکھیں گے، آپ کے خاوند دوسروں کے خاوندوں سے لڑیں گے جا کر ، آپ کے بھائی دوسرے کے بھائیوں سے لڑیں گے۔ایک بد اخلاقی اور ہزارلعنتیں آپ اپنے اوپر لے لیں گی اور تبلیغ کے قابل ہی نہیں رہیں گی آپ بالکل۔اس لئے بنیادی سبق وہی ہے جس سے میں نے آغاز کیا تھا کہ آپ اپنے اخلاق کو بلند کریں، اخلاق حسنہ پیدا کریں۔اندرونی طور پر ایک دوسرے سے پیار اور محبت کی باتیں کریں جس سے تعلق بڑھے نہ کہ تعلق کئے اور بیرونی طور پر اسی خلق کے بہتھیار کو لے کر نکلیں اور دنیا کے دل موہ لیں تا کہ وہ لوگ آپ کے مذہب میں دلچسپی لیں۔اُمید ہے کہ آپ ان باتوں کو ملحوظ خاطر رکھیں گی۔امید ہے ان باتوں پر آپ عمل کرنے کی کوشش کریں گی لیکن اگر خدانخواستہ آپ میں سے کوئی خاتون ایسا نہیں کرتیں اور اندرونی طور پر بدخلقی سے کام لیتی ہیں یا نظام جماعت سے تعاون نہیں کرتیں یا ان کی بچیاں ان کے ہاتھ سے نکل رہی ہیں اور ان کو کوئی پرواہ نہیں ہے، ان کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا تو بہتر ہے کہ پھر ایسی خواتین جماعت سے الگ ہوجائیں کیونکہ ہم نے تو اب لمبے پروگرام بنائیں ہیں ، ہم نے تو تیز چلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اگلی صدی قریب آرہی ہے اور بہت سے فاصلے طے کرنے والے باقی ہیں اس لئے ہم ان کمزوروں کی خاطر اب رک کر زیادہ دیر انتظار نہیں کر سکتے اس لئے میں نے جماعت کو بھی نصیحت کی ہے، لجنہ کو بھی کہتا ہوں کہ پیار اور محبت سے سمجھانے کی کوشش کریں اگر سمجھیں اور اصلاح کر کے نظام جماعت کے ساتھ تعاون کر کے آگے بڑھیں تو بہتر ہے ورنہ مجھے مطلع کریں تا کہ ان کو نظام جماعت سے الگ کر دیا