اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 113
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطاب ۱۱۳ خطاب ۳ اپریل ۱۹۸۸ء اسی غرض سے تو لجنہ قائم کی گئی ہے کہ آپ لجنہ کے سپرد اپنی بچیاں کریں اور ان کے زیر احسان ہوں ،ان کا شکر یہ ادا کریں کہ جو کام ہم نہیں کر سکتیں تھیں وہ آپ نے شروع کر دیا ہے۔اس سے آپ کی آئندہ نسل کی حفاظت ہوگی۔پھر آئندہ آنے والوں کو اچھی مائیں عطا ہوں گی۔انہی بچیوں نے کل کو اچھی مائیں بننا ہے۔دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سی ایسی خواتین ہیں۔بہت سی نہیں تو کافی تعداد بہر حال ہے جو تبلیغ کر رہی ہے اور ان کے خطوں سے مجھے علم ہوتا رہتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کم علمی کے باوجود تبلیغ کے لئے بڑی محبت رکھتی ہیں، دعائیں کرتی بھی ہیں اور دعائیں کرواتی بھی ہیں اور اپنے نیک نمونے اور پیار کے ساتھ وہ اپنے ماحول میں پیغام پہنچا رہی ہیں۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں جرمنی میں بعض پاکستان سے آنے والی خواتین کو اللہ تعالیٰ نے مختلف پھل بھی عطا کئے۔مختلف قوموں کی عورتوں میں مختلف قوموں کے خاندانوں میں انہوں نے تبلیغ شروع کی اور اس بات کی کبھی پرواہ نہیں کی کہ اُن کو زبان بھی ٹھیک نہیں آتی۔کہیں سے لڑ پچر لیا، کہیں سے کیسٹ مانگی، دوستی کی ، تعلقات قائم کئے اور اسی طرح انہوں نے تبلیغ شروع کر دی۔نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ کے فضل سے اُس تبلیغ کو پھل بھی لگنا شروع ہو گئے۔آپ کی اتنی بڑی تعداد ہے یہاں خدا کے فضل سے اس وقت ۱۴۰۰ کے قریب عورتیں ، لڑکیاں اور بچے یہاں موجود ہیں۔ان میں ۸۰۰ سے زائد بڑی عمر کی عورتیں اور بڑی عمر کی بچیاں ہیں۔آپ لوگ یہ تبلیغ اگر یہاں شروع کریں تو ۸۰۰ کی ایک فوج بن جائے گی اسلام کی جوار دگرد پیغام پہنچانا شروع کرے گی۔دیکھتے دیکھتے تبدیلی پیدا ہونی شروع ہو جائے گی اور یہ میرا تجربہ ہے کہ جو عورت بھی فیصلہ کرتی ہے کہ میں نے تبلیغ کرنی ہے اور خدا سے دعا مانگتے ہوئے وہ کام شروع کرتی ہے اور محبت اور پیار سے اپنے تعلقات بڑھاتی ہے اور میٹھی زبان استعمال کرتی ہے اس کو ایک کیا ایک سے زائد پھل بھی لگ جاتے ہیں۔اوسطاً آپ کو ایک روحانی بچہ بھی ملے تو اگلے سال آپ کی تعداد ۸۰۰ سے ۱۶۰۰ ہو جائے گی۔اور اسی طرح سلسلے پھیلا کرتے ہیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدا تعالیٰ نے Reproduction کے لئے ایک خاص مقام دیا ہے ایک خاص خلقت بخشی ہے آپ نہ ہوں تو دنیا کی نسلیں ختم ہو جائیں۔آپ زندگی کی ضامن ہیں۔آپ کے بغیر زندگی کی نشو ونماممکن ہی نہیں ہے لیکن صرف جسمانی زندگی نہیں آپ اگر چاہیں تو