اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 112
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطاب خطاب ۳ راپریل ۱۹۸۸ء بھی بہت سی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ملتی ہیں کہ خدا اپنے کام کرنے والوں کے لئے بڑی غیرت رکھتا ہے اس لئے آپ ایسے معاملے میں خدا کی خاطر کام کرنے والیوں سے اگر تعاون نہیں کر سکتیں تو ادب کا سلوک تو کریں، عام اخلاق حسنہ تو قائم رکھیں اور بدظنیوں میں جلدی نہ کیا کریں کہ ی محض طعنہ دینے کے لئے اس مصیبت سے کہیں دور سے آئی ہے۔یا شکایتیں ہورہی ہیں اور کون ہوتا ہے میری شکایت کرنے والا۔آپ خیال کریں کہ آپ ان ملکوں میں ایک نمونہ بن کر آئی ہیں اگر آپ نے اپنے نمونے گندے پیش کئے اور یہاں سے بُری عادتیں سیکھیں تو ان خواتین کو جو محض تقویٰ سے اور خدا کے پیار سے اسلام میں داخل ہو رہی ہیں ان کی تکلیف کا بھی موجب بنیں گی اگر ٹھوکر کا موجب نہیں بن سکتی اور یہ جو آپ سے سیکھ سکتی ہیں کیونکہ آپ پیدائشی احمدی ہیں آپ نے لمبے عرصے تک احمدیت کے ماحول میں تربیت پائی ہوتی ہے، لجنہ کے نظام سے واقف ہیں جو کچھ آپ سے سیکھ سکتی ہیں یہ نہیں سیکھیں گی اور ایک بڑے اہم مقصد سے آپ محروم رہ جائیں گی جو اسلام کے قیام کا مقصد ہے کہ قوموں کے تفرقے مٹادے ، رنگ اور نسل کی تمیز کو ختم کر دے، مشرق و مغرب کی خلیجیں پاٹ دے کہ فاصلے ختم ہوں اور ساری انسانیت جو خدا کے بندے ہیں وہ خدا کے نام پر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے ایک انسان کے طور پر اکٹھے ہو جائیں۔یہ وہ اعلیٰ اور آخری مقصد ہے جس کی طرف اسلام دنیا کو لے جا رہا ہے مختلف راہوں مختلف طریقوں سے۔اور آج یہ کام جماعت احمدیہ کے سپرد ہوا ہے اور ۱۴اممالک میں جماعت احمد یہ اس کام ، اس خدمت پر فائز ہے اور حتی المقدور اس کو ادا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔یہاں اگر آپ نے Misbehave کیا ، بُرے اخلاق کا نمونہ دکھایا تو خطرہ ہے کہ اگر آپ اسلام سے ان کو دور نہ کریں تو کم از کم تہذیبی لحاظ سے ضرور ان کو پرے پھینک دیں گی۔قومی لحاظ سے یہ یہی سمجھیں گی کہ یہ گھٹیا لوگ ہیں ، ادنیٰ لوگ ہیں ، اچھے مذہب کے باوجود بُرے اخلاق رکھنے والے لوگ ہیں اس لئے اس ذمہ داری کو بڑی سمجھ سے ، ہمت سے ، سوچ کر ادا کریں اور حو صلے دکھا ئیں۔اپنی تربیت کا خیال رکھیں اور خود اپنی بچیاں لجنہ کے سپر د کر یں۔آپ میں سے بہت سی ایسی بھی ہوں گی جن کو قرآن کریم کی تلاوت نہیں آتی ، جن کو نماز اچھی طرح نہیں آتی، جن کو عام دینی مسائل سے پوری طرح واقفیت نہیں ہے۔اگر آپ اپنے بچوں کی تربیت کرنے کی اہل نہیں ہیں کیونکہ آپ خود تر بیت کی محتاج ہیں تو