اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 110

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطاب 11۔خطاب ۳ اپریل ۱۹۸۸ء اس نے سنا کہ پر وہ ٹھیک نہیں کر رہی، یہاں کی تہذیب سے متاثر ہورہی ہے، اس کے نتیجے میں اس کو خطرہ لاحق ہے۔یہاں کے لوگ گندے بھی ہیں ، اچھے بھی ہیں بعض پہلوؤں سے لیکن عام انسانی جنسی تعلقات میں یہ اتنا زیادہ حد سے گزر چکے ہیں کہ اکثر صورتوں میں حیوانات سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں اس لئے بچیوں کے لئے خطرات ہیں۔جب لجنہ کی خواتین آپ کے پاس آتی ہیں اور کہتی ہیں کہ دیکھو بی بی تمہاری بیٹی کچھ بے احتیاط ہوگئی ہے، اگر برقعہ نہیں پہنتی تو کم از کم چادر ہی سنبھالے، سر سے چادر بھی ڈھلک جائے اور ویسے بھی لباس ننگا ہونا شروع ہو جائے تو اس کے لئے یہ بہت زیادہ خطرناک ہے بہ نسبت ایک یہاں کی خاتون کے جو برقعہ نہیں پہنتی لیکن اپنے آپ کو سنبھالے ہوئے ہے۔شریفانہ لباس میں ہے جیسے یہ خواتین ہیں جو سب بیٹھی ہوئی ہیں ان میں سے بعض نے برقعے پہنے ہوئے ہیں اور بہت سی پاکستانی احمدیوں سے بہتر برقعے کا حق ادا کر رہی ہیں۔بعض نے برقعے نہیں پہنے ہوئے لیکن ان کے لباس سے شرافت برس رہی ہے۔ان کی طرز میں وہ نمایاں طور پر ایک کردار کی جھلک ہے کہ ہم نے ایک طریق اختیار کیا ہے اور ہم اس کے پیچھے چلیں گی اس لئے ان کو کوئی خطرہ نہیں بغیر برقعے کے بھی یہ محفوظ ہیں کیونکہ اپنی تہذیب کی اونچ نیچ اور اس کے گند یہ دیکھ چکی ہیں اور ایک عظیم فیصلہ کرنے کے بعد اب انہوں نے اپنے بود و باش، طرز رہائش کو بدلنے کا ارادہ کر لیا ہے اور وہ ان کے لباس اس کے طرز اور ان کے اٹھنے بیٹھنے سے نمایاں ہے۔لیکن وہ احمدی بچیاں جو بعض دیہات کی تہذیب سے اُٹھ کر یہاں آتی ہیں، وہ پاکستان میں بھی اکثر بعض ایسے طبقات سے بیچاری تعلق رکھتی ہیں جو غریب بھی ہے جہاں آپس میں لڑائیاں بھی ہوتی رہتی ہیں، طعنے مینے چلتے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف چغلیاں ہو رہی ہیں۔ایک گھر والی نے کسی کی بیٹی پر انگلی اٹھائی تو اس نے دس انگلیاں اُٹھا دیں۔ایک نے منہ سے بات نکالی تو دوسری نے پتھر برسا دیئے۔لڑائیوں کی عادتیں اور ایک دوسرے کی چغلیاں کرنی پھر مردوں کو بیچ میں ملوث کرنا یہ ساری باتیں جس معاشرے میں عام ہوں وہاں سے لڑکیاں بیچاری اُٹھ کر یہاں آئیں اور مزید یہاں سے بھی بُری باتیں سیکھنے لگ جائیں تو لجنہ کا فرض ہے۔اسی لئے تو لجنہ قائم کی گئی ہے کہ وہ آپ کے پاس آئے آپ کو بتائے کہ بی بی سنبھالو اپنے آپ کو نقصان پہنچے گا۔احمدیت کی خاطر تم یہاں پناہ لینے آئی لیکن احمدیت کی پناہ سے خود نکل گئی ہو۔اس ملکی پناہ کا کیا فائدہ۔جواحمدیت کے نام پر پناہ لینے آتا ہے وہ احمدیت بیچنے کے لئے تو نہیں آتا لیکن اگر آپ نے