اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 109
1+9 خطاب ۳ اپریل ۱۹۸۸ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطاب پر استفادہ کرنے کا موقع ہے۔اس پہلو سے پاکستان سے آنے والی خواتین کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔میں جانتا ہوں کہ انہوں نے اسلام کو سچا سمجھ کر مانا ہے اور اگر آپ نے بُرانمونہ دیکھایا خدانخواستہ تو اس کے باوجود یہ اپنا تعلق نہیں تو ڑ دیں گی کیونکہ یہ باشعور لوگ ہیں، یہ سمجھ کر ایک بات کو قبول کرتے ہیں ، ان کو اسلام۔محبت پیدا ہوئی ہے اس لئے آپ کا نمونہ اگر خدانخواستہ خراب بھی ہوا تو یہ اپنی ذات پر قائم رہیں گی لیکن آپ محروم رہ جائیں گی اس خدمت سے یعنی پاکستان سے آنے والی خواتین اگر اپنا نمونہ اعلی دکھا ئیں تو ان کی تربیت میں ، مزید تربیت میں بہت بڑا کردار ادا کرسکتی ہیں اور ان کے اخلاص کو مزید چار چاند لگا سکتی ہیں۔مزید ان کے اندر عظمتیں اور رفعتیں پیدا کرسکتی ہیں اس لئے میں آپ سے خصوصیت سے آج مخاطب ہو کر بعض تربیتی امور سے متعلق باتیں کرنی چاہتا ہوں۔مختلف خطوط کے ذریعے بھی اور یہاں آنے کے بعد گفت وشنید کے ذریعے بھی جو جائزہ میں نے لیا ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو خواتین پاکستان کے دیہاتی علاقوں سے یہاں تشریف لائی ہیں وہ اپنی بہت سے بدر میں بھی ساتھ لے آئی ہیں اور یہاں آنے کے باوجود انہوں نے وہ تہذیبی روشنی حاصل نہیں کی جن میں یہ ملک ہمارے ملکوں سے بہت آگے ہیں۔نتیجہ بعض ایسی باتیں لجنہ میں ہوتی رہتی ہیں جو لجنہ رپورٹ کرے یا نہ کرے حالانکہ اُن کا فرض ہے کہ وہ رپورٹ کریں مگر خطوں کے ذریعے مجھ تک پہنچتی ہیں اور جب میں ملتا ہوں لوگوں سے تو باتوں باتوں میں ذکر چل پڑتے ہیں اور اس کے نتیجے میں میرے سامنے ایک تصویر ابھرتی ہے۔وہ تصویر ایسی ابھری ہے جو پسندیدہ نہیں، جس سے میرا دل خوش نہیں ہوا کیونکہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہاں ہر حلقے میں جہاں جہاں آپ آ کر ٹھہری ہیں آپس میں لڑائیاں ہیں، ایک دوسرے سے اختلاف ہیں اور اختلاف بھی چھوٹی اور کمینی باتوں پر ، گھٹیا گھٹیا باتوں پر ، بدظنیاں عام ہیں، اگر کسی عہدے دار کی طرف سے کسی کو نصیحت کی جائے تو آگے سے بعض دفعہ ہر خاتون کے معاملے میں تو نہیں لیکن بعض خواتین ایسی ہیں جو لڑنے کے لئے اُٹھ کھڑی ہوتی ہیں کہ تم ہوتے کون ہو اور کس خبیث نے ہماری شکایت کی تھی ، لاؤ تو سہی اُس عورت کو میں اس کے ساتھ یہ سلوک کر کے دکھاؤں گی۔یہ تو کوئی انسانی رو عمل نہیں۔اسلام تو در کنار وہ تو بہت اونچی چیز ہے یہ تو عام شرافت کے خلاف بات ہے۔ایک لجنہ کی عہدیدار اگر آپ کے پاس آتی ہے نیک نصیحت لے کر ، آپ کی بچی کے متعلق